Bharat Express DD Free Dish

Yogi Government

جمعیۃ علماء ہند نے کل اپنی لیگل ٹیم کی ایک میٹنگ طلب کی ہے، جس میں اس غیرآئینی، غیر قانونی اعلان کے قانونی پہلوؤں پرغوروخوض کیا جائے گا۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن داخل کرسکتی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ، مسلمانوں کی دینی وملی تنظیموں اوردینی مدارس کے ذمہ داران نے ریاست اترپردیش کے چیف سکریٹری کی طرف سے مدارس کا سروے کرکے ضلعی حکام کو ہدایات دینے سے متعلق فیصلے پر مشترکہ بیان جاری کرکے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے کہا کہ "مذہبی تعلیم کا حصول نہ صرف یہ کہ ہرفردکا بنیادی حق ہے بلکہ ایک بہتر معاشرے کی بھی ضرورت ہے۔

وزیراعظم مودی کی کابینہ میں شامل وزیرجتن پرساد کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ مرکزی وزیراپنے پارلیمانی حلقے کے دورے پر تھے۔

مظفر نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا، "عوام کو اس حکومت کے ایجنڈے سے بچنا چاہیے، ہندو بھی نان ویج کھاتے ہیں، سیندھا نمک پاکستان سے آتا ہے، پھر یہ لوگ اس کا بائیکاٹ کیوں نہیں کر رہے؟

آر ایل ڈی کے جنرل سکریٹری ترلوک تیاگی نے بھی ایکس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے ترلوک تیاگی نے کہا کہ کیا شراب پینے سے مذہب خراب نہیں ہوتا؟ کیا یہ صرف گوشت کھانے سے ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کے مطابق شراب پر پابندی لگائی جائے۔

Kanwar Yatra 2024: اترپردیش حکومت نے جب سے کانوڑ یاترا روٹ پر دکانداروں کے لئے نیم پلیٹ لگانا لازمی قرار دیا ہے، تب سے ہی اس کی جم کرتنقیدکی جارہی ہے، لیکن اب اتراکھنڈ میں بھی متنازعہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس فیصلے سے پہلے یوپی کے مظفرنگر، پھرشاملی اور سہارنپور پولیس نے یہ فیصلہ لیا تھا، جس کی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے سخت مخالفت کی جارہی تھی۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ نے پورے یوپی میں یہ حکم نافذ کردیا ہے۔

 یوپی کی مظفرنگرپولیس نےکانوڑیاترا 2024 سے متعلق ایک متنازعہ حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس سے سیاسی ہنگامہ آرائی ہورہی ہے۔ پولیس نے کانوڑ یاترا کے راستوں میں آنے والے سبھی ریسٹورنٹ، دکانوں، ہوٹلوں اورٹھیلے والوں سے اپنی دکان کے آگے نام لکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اترپردیش کی حکومت چھوا چھوت کو پرموٹ کر رہی ہے۔ مظفرنگر کے ڈھابوں سے مسلمانوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ کیا آپ ایک ہی طبقے کے لئے کام کریں گے؟