Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ووٹروں کی بڑی تعداد دیکھ کر ٹی ایم سی کے لیڈر حیران اور پریشان ہیں کیونکہ انہیں اتنی بڑی شرکت کی توقع نہیں تھی۔ مودی کے مطابق ریاستی حکومت نے اپنے کرتوتوں سے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، جس کے باعث لوگ آئے دن عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابی ماحول کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک مختلف اور پرسکون انداز اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے جمعہ کی صبح کولکاتا میں ہُگلی دریا کے کنارے وقت گزارا۔ انتخابی مصروفیات کے باوجود یہ لمحہ خاصا منفرد رہا، جہاں انہوں نے نہ صرف قدرتی مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ مقامی افراد سے بھی خوشگوار ملاقات کی۔

رتنا دیبناتھ نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی لڑائی کا ذکر کیا، جس پر وزیر اعظم نے ان کی ہمت کی تعریف کی۔ ان کے مطابق ”وزیر اعظم نے مجھ سے کہا کہ میں بہت بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہوں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی ہوں اور اس کا نام اور تصویر دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑھایا“۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل اہم سیاسی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی، کیرلم میں کانگریس اور تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن کامیابی حاصل کریں گے۔

وزیر اعظم نے ریلی میں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگوں کا یہ جذبہ اور محنت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم ترقی کے ذریعے آپ کو سود سمیت جواب دیں گے“۔ ان کے اس بیان پر مجمع نے زوردار تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز مغربی بنگال کے دم دم اور جادوپور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے دم دم پہنچیں گے جہاں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے، جس کے بعد دوپہر 1 بجے جادوپور میں دوسری ریلی منعقد ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

مختلف علاقوں سے عوام جوق در جوق میدان میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلسہ گاہ کھچا کھچ بھر گیا اور ہر طرف ’مودی-مودی‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ عوام میں جوش اس قدر تھا کہ کئی افراد وزیر اعظم کی تصاویر اور ان کی والدہ کے ساتھ لی گئی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے نظر آئے، جبکہ کچھ مداح خصوصی طور پر ان کی پینٹنگز بنا کر لائے تھے۔

مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔