Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم مودی اکثر اپنے خطابات میں مضبوط ارادے اور مستقل مزاجی پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس موقع پر بھی انہوں نے واضح کیا کہ قوم کی ترقی کا آغاز فرد کی ذاتی بہتری سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے کام میں مہارت پیدا کرے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے بنگال میں اپنی انتخابی مہم کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں ایک منفرد توانائی اور جوش محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور مسلسل ریلیوں کے باوجود انہیں کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول، یہ ریلیاں اور روڈ شوز ان کے لیے کسی مذہبی یاترا سے کم نہیں تھے، جہاں انہیں عوام کی محبت اور عقیدت نے مسلسل توانائی فراہم کی۔

باراسات کی ریلی میں موجود ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ اسے ممتا بنرجی کا مضبوط گڑھ کہتے ہیں، وہ آج کی عوامی شرکت دیکھ لیں، جواب خود مل جائے گا۔

وزیر اعظم  مودی نے اس موقع پر شہریت ترمیمی قانون 2019 کے نفاذ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا مقصد متوا جیسی برادریوں کو شہریت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشرقی بنگال سے آنے والے پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی،

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

روڈ شو کے دوران مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول نوجوان، بزرگ اور خواتین، بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی افراد وزیر اعظم کے کٹ آؤٹس اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کچھ لوگ پھولوں کی مالائیں لے کر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر خواتین کی نمایاں شرکت نے سب کی توجہ حاصل کی، جن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بھی شامل تھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹی ایم سی پر ”سنڈیکیٹ راج“ چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پانچ تاریخ کو بی جے پی کی حکومت بنتے ہی ریاست بھر میں تمام سنڈیکیٹ نظام ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت قانون و نظم کو مضبوط بنائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔