Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

پارٹی ذرائع کے مطابق سویندو ادھیکاری 9 مئی کو رابندر جینتی کے موقع پر کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کو بی جے پی ایک بڑے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں اور پارٹی پوری ذمہ داری کے ساتھ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ”سونار بنگلہ“ کے خواب کو حقیقت میں بدلیں اور ریاست کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہ پر لے جائیں۔

مغربی بنگال میں بی جے پی نے شوبھندوادھیکاری کونئے وزیراعلیٰ اور اگنیمترا پال اور نسیتھ پرمانک کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ امت شاہ نے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست میں تشدد پرتنقید کی اوربنگال میں ترقی کے لئے بی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔

انتخابی نتائج کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہاوڑہ کے شیوپور میں بم دھماکے میں بی جے پی کارکن کے زخمی ہونے کی بات سامنے آئی ہے جبکہ کانتھی میں ترنمول لیڈرکے گھرپربھی حملہ کیا گیا۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پرالزامات لگا رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب بی جے پی نے ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں شامل مغربی بنگال میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں دس کروڑ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ ان کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی عوام نے وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ایک بار پھر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔