Bharat Express DD Free Dish

Utterpradesh

پوسٹر میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران خواتین کی سلامتی کے لیے شروع کی گئی 1090 ویمن پاور لائن اور ڈائل 100 خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کی سہولتوں سے متعلق 102 ایمبولینس سروس اور ماں و بچے کے لیے ریفرل اسپتال کو بھی سابقہ حکومت کے کاموں میں شامل کیا گیا ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور ترقی کے لیے چلائی گئی کنیا ودھن اسکیم اور ’ہماری بیٹی، اس کا کل‘ اسکیم کو بھی پوسٹر میں جگہ دی گئی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ خدمت کی خوشی میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرہ کس طرح ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگوں کی بات سنتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے اور یہی خوشی ہمارے لیے توانائی بن جاتی ہے۔وزیر اعظم نے سیوا یاتریوں سے کہا کہ وہ اس سفر کو پوری طرح جئیں۔

فائر سروس کی ڈائریکٹر جنرل پدمجا چوہان نے بتایا کہ آگ جواہر بھون کی چوتھی منزل تک محدود رہی، جہاں ایک سرکاری دفتر اور کینٹین واقع ہے۔ ان کے مطابق آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور اب ماہرین اس کے اصل اسباب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں۔واقعے کے بعد جواہر بھون کے احاطے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

متاثرہ بچے کے دادا نے اس معاملے کی شکایت پولیس تھانے میں درج کرا دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم اس واقعے نے سوسائٹی میں رہنے والے خاندانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم مٹولی مدھوسودن گپتا، سی او یادویندر یادو اور ایس ایچ او مہیش پاٹھک فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر فائر بریگیڈ کو طلب کیا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ گاؤں کے لوگ بھی کنوؤں اور ہینڈ پمپوں سے پانی لا کر آگ بجھانے میں لگ گئے،

بتایا جا رہا ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں منزل کے کل چھ فلیٹس اس آگ کی لپیٹ میں آئے۔ صبح تقریباً 10:45 بجے تک آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا تھا، تاہم متاثرہ فلیٹس کا بیشتر سامان جل کر خاک ہو چکا ہے۔ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

وزیر اعظم  مودی کے اس دورے کو ترقیاتی اور سیاسی دونوں لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے دورے کے دوران وہ بَنارس لوکوموٹیو ورکس  میں ایک بڑے خواتین اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ شہر کے لیے 100 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔

قانون کے مطابق اتر پردیش اقلیتی کمیشن ایکٹ 1994کے تحت کمیشن میں ایک چیئر مین، ایک نائب چیئر مین اور ارکان ( جن میں کم از کم دو خواتین شامل ہوں) کی موجودگی لازمی ہے۔ آخری بار جون 2021 میں یوپی اقلیتی کمیشن کی تشکیل ہوئی تھی۔

پروگرام کا بنیادی مقصد مکالمے کے ذریعے حکومت اور سماج کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس دوران کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی جائے گی جن کا براہِ راست تعلق عوام اور سرکاری پالیسیوں سے ہے۔

اتنے بڑے ہنگامے کے باوجود معاملے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ تینوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے مسئلہ حل کر لیا اور پولیس کی موجودگی میں تنازع ختم ہو گیا۔ اس انوکھی شادی اور دو دولہوں کی کہانی اس وقت امروہہ شہر میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے،