Bharat Express DD Free Dish

US President

ٹرمپ نے یوکرین کو دی جانے والی امریکی امداد کی تنقید کی ہے– جو 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے – جس کی وجہ سے کیف اور یورپی یونین میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ٹرمپ بنیادی طور پر ماسکو کی شرائط پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔

پی ایم مودی نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ 'میرے دوست ٹرمپ کو  تاریخی انتخابی جیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ جیسا کہ آپ اپنی پچھلی میعاد کی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، میں ہندوستان-امریکہ جامع عالمی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے تعاون کی تجدید کا منتظر ہوں۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی عوام نے ایک بارپھر مجھے سب سے بڑی ذمہ داری دی ہے ۔ دنیا میں سب سے بڑی ذمہ داری امریکہ کا صدر ہونا ہے اور میں اپنے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے امریکہ کو محفوظ اور خوشحال بنائے رکھنے کی پوری کوشش کروں گا۔

پروگرام کے دوران جب بائیڈن وزیر اعظم مودی کا نام بھول گئے تو اسٹیج پر پی ایم مودی، آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی اور جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا بھی موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے بیٹے کے خلاف کیس کا فیصلہ 16 دسمبر کو سنایا جائے گا۔خبر ایجنسی کے مطابق ہنٹر بائیڈن پر ٹیکس کی مد میں کم از کم 14 لاکھ ڈالر ادا نہ کرنے کا الزام تھا۔خبر ایجنسی کے مطابق ہنٹر بائیڈن کے اعتراف جرم کا مقصد اپنے خاندان کو مزید شرمندگی سے بچانا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی عوام کس کا انتخاب کرتے ہیں اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا روس کیا سوچتا ہے یا کس کی حمایت کرتا ہے، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انتخابات میں کون فیورٹ ہے، اس کا تعین کرنا ہمارا کام نہیں، یہ کام بھی امریکی عوام نے کرنا ہے۔

لاس ویگس میں ہونے والی اس انتخابی ریلی میں بائیڈن نے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے دور حکومت میں بنائی گئی پالیسیوں اور ملک میں بندوق کے بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کی۔

امریکی صدر کے بیانات ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے کے برعکس ہیں، جو متعدد فوجداری مقدمات کا سامنا کر ہرے ہیں اور وہ پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر وہ الیکشن جیت گئے تو وہ اپنے خلاف آنے والے فیصلوں کو پلٹ دیں گے۔

جو بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے رفح شہر پر اسرائیل کی فوجی کارروائی کی وجہ سے 2.4 ملین میں سے 15 لاکھ افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہم جمہوری اصولوں کا دفاع کرنے کے لیے جارحیت اور دھمکیوں کو پیچھے دھکیل دیں گے،کیونکہ یہ دہائیوں تک سلامتی اور خوشحالی کے تحفظ میں مدد کرتا ہے۔ لیکن ہم چین کے ساتھ ان مسائل پر بھی مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں ترقی کا انحصار مشترکہ کوششوں پر ہے۔‘‘