Bharat Express DD Free Dish

US President

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کی اقتدار پر واپسی کے بعد دراندازوں کے خلاف مسلسل سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں یہی مہاجرین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل …

بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تعطل اور ناخوشگوار واقعات  نے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جس پر امریکی صدر ٹرمپ کی قریبی معاون لورا لومر نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادنوم گھیبرییسس نے ہفتے کے روز ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں وہ برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا کے ساتھ جوہانسبرگ میں خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی تھی۔

ٹرمپ کا سب سے اہم پڑاؤ اس ماہ کے آخر میں ہوگا، جب وہ جنوبی کوریا کے شہر گیونگجو میں ہونے والی APEC سربراہی کانفرنس میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈا نے ایک اشتہار جاری کیا، جس میں ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی کی مخالفت کی گئی۔ کینیڈا نے کہا کہ 25 تا 35 فیصد ٹیرف لگانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے جو دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔

چین کے سخت رویے اور بڑھتے اقتصادی دباؤ کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’چین کی فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا۔ ہم چین کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی ریڈی میڈ ملبوسات کی مارکیٹ میں ویتنام کا 19 فیصد حصہ ہے جبکہ بنگلہ دیش کا 9 فیصد حصہ ہے۔ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے جب کہ 12 دیگر ممالک کو خطوط موصول ہوئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں کتنا ٹیرف ادا کرنا پڑے گا۔ بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ بہت جلد تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا، ’’دوسرے لفظوں میں، یہ احمقانہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کے دفاع اور حمایت کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، جو کہ کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کرنے والے ہیں۔ ہم نے ابھی ابھی وزیر اعظم بی بی نیتن یاہو کی قیادت میں ایک بڑی فتح حاصل کی ہے اور یہ ہماری جیت کو داغدار کر رہا ہے۔ بی بی کو جانے دو، انہیں ایک بہت بڑا کام کرنا ہے۔‘‘!

سکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق، 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے قبول کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پی ایم مودی کی طرف سے بتائی گئی باتوں کو تفصیل سے سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔