امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کی اقتدار پر واپسی کے بعد دراندازوں کے خلاف مسلسل سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں یہی مہاجرین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کے خلاف ٹرمپ ایسا قدم اٹھانے جا رہے ہیں جو نہ صرف غیر انسانی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ چاروں طرف اس پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اب مہاجرین کو ایک ایسے ’جہنم‘ میں دھکیلنے کی تیاری میں ہیں جس کے چاروں جانب صرف سمندر ہی سمندر ہے۔ دراصل ٹرمپ اب دراندازوں کو ہزاروں میل دور، سمندر کے عین درمیان واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر بھیجنے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے والے مہاجرین کو پلاؤ بھیجا جائے گا اور صرف وہیں مہاجرین کو پناہ دی جا سکے گی۔
پلاؤ کہاں ہے؟
پلاؤ جزیرہ بحرالکاہل کے عین درمیان، فلپائن کے جنوب مشرق اور پاپوا نیو گنی کے شمال میں واقع ایک چھوٹا سا جزائر پر مشتمل ملک ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے چھوٹی ریاست رہوڈ آئی لینڈ سے بھی کئی گنا چھوٹا ہے۔ پلاؤ ایک جمہوریہ ہے، جس کی کل آبادی تقریباً 18 ہزار کے قریب ہے۔ یہاں مہاجرین کو جزیرے کے تقریباً 180 مربع میل کے علاقے میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
آخری سانس تک جہنم میں رہیں گے مہاجرین
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ حکومت نے مہاجرین کو پلاؤ بھیجنے کے لیے وہاں کی انتظامیہ سے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پلاؤ کو ان مہاجرین کو رکھنے کے بدلے امریکہ کی جانب سے 75 ملین ڈالر کی مدد دی جائے گی۔ امریکہ نے اس رقم میں سے 7.5 ملین ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کر دی ہے۔ یہی نہیں، امریکہ میں ٹرمپ مہاجرین کے خلاف آخری سانس تک سختی برتنے کی تیاری میں ہیں۔ ٹرمپ حکومت امریکہ میں 7 بڑے ویئرہاؤس خریدنے جا رہی ہے، جہاں ایک ساتھ 80 ہزار سے زائد مہاجرین کو رکھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
