Bharat Express DD Free Dish

US President

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی اسٹریٹجک خلیج کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جہاں جنگ روک کر معاہدہ چاہتے ہیں، وہیں نتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے حامی بتائے جا رہے ہیں…

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔

امریکی کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ نے ڈونالڈ ٹرمپ کے 10 فیصد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جانیے اس فیصلے کا چھوٹے کاروباریوں اور چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر ایران کے ساتھ فوجی دشمنی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ کی مدت کی حد اور سیاسی دباؤ اس فیصلے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں…

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اندر ایک ہائی سکیورٹی بال روم بنانے کے اپنے مطالبے کو دوبارہ دہرایا ہے۔ انہوں نے 150 سال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے واقعے جیسے واقعات وائٹ ہاؤس جیسے اہم مرکز میں اس طرح کی سہولت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے واقعات جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور انہیں پوری قوت کے ساتھ مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مل کر اس طرح کے تشدد کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

لبنان پر حملے روکنے کا سخت حکم دینے کے ایک دن بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے تیور بدل گئے۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا مضبوط اتحادی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔ اس دوران جنگ بندی نافذ ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی نازک ہیں اور خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔