Bharat Express DD Free Dish

US President

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوجی ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کمرشل مسافر طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔ اس واقعے کو فضائی اصطلاح میں ’لاس آف سیپریشن‘ (طیاروں کے درمیان محفوظ فاصلے میں کمی) قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاس اینجلس میں واقع ٹرمپ نیشنل گولف کورس کے باہر ایک مشتبہ شخص کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی سیکریٹ سروس اس بات کی مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کسی مبینہ سازش کا حصہ تھا یا نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 22 کروڑ ووٹروں کا ڈیٹا چوری کرنے اور امریکی خفیہ اداروں (ڈیپ اسٹیٹ) پر اس حقیقت کو چھپانے کا سنسنی خیز الزام عائد کیا ہے۔ تاہم نیویارک ٹائمز (NYT) کی ایک رپورٹ میں ان دعوؤں کے پس منظر اور ان سے متعلق حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جانیے اس معاملے کی مکمل اندرونی کہانی۔

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی اسٹریٹجک خلیج کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جہاں جنگ روک کر معاہدہ چاہتے ہیں، وہیں نتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے حامی بتائے جا رہے ہیں…

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔