Bharat Express DD Free Dish

Urdu Journalist

تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئرسوسائٹی کے صدرڈاکٹرایس فاروق نے کی۔ انہوں نے مصنف ڈاکٹرمحمد شمیم اخترکی کاوش کوسراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن اوراردو زبان وادب کے باہمی تعلق کودستاویزی شکل دینا ایک اہم علمی کام ہے۔ ان کے مطابق کتاب اردو ادب کی ترویج میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو سمجھنے کے لیے مفید مواد فراہم کرتی ہے۔

امیر احمد راجہ کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عصر کوچہ پنڈت کی مسجد چاندی والی میں ادا کی گئی۔ نمازِجنازہ کے بعد ان کا جسدِ خاکی دہلی گیٹ قبرستان لے جایا گیا، جہاں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ بڑی تعداد میں صحافی، سماجی وسیاسی شخصیات، اعزا واقربا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں معروف صحافی اور آل انڈیا ریڈیوکی نیوز ریڈر نیتیکا تیاگی نے ’ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا کردار‘ کے موضوع پر گفتگو کی ۔ نتیکا نے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔

شاریہ فاطمہ شیروانی نے سینٹرل بورڈ اف سیکنڈری ایجوکیشن( سی بی ایس سی) دہلی میں سال 2024-25 کے 10سویں کلاس کےامتحانات میں اردو مضمون میں 100 میں سے 100 نمبر حاصل کر کے اپنے اسکول زینت محل سینیئر سیکنڈری اسکول جعفراباد کے ساتھ ساتھ اردو والوں کا نام روشن کیا ہے۔

نیشنل کمیشن فارمائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے چیئرمین ڈاکٹرشاہد اختر نے کہا کہ آر ایس ایس اورمسلم راشٹریہ منچ نے علمائے کرام، دانشور اورصحافیوں سے میٹنگ کی ہے تاکہ عام لوگوں سے جڑا جاسکے۔ اس کا مقصد ملک کی تہذیب اور تمام مذاہب کے لوگ اپنے حقوق کے ساتھ آگے بڑھیں اورملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ ایک علمی اورثقافتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے زیراہتمام مختلف ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اسی ضمن میں ایک شام صحافیوں کے ساتھ منعقد کیا، جس میں دہلی کے سینئرصحافیوں سے لے کرنوجوان صحافیوں نے شرکت کی اور پروگرام کوکامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹام 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اسپورٹس جرنلسٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے سچن تندولکر کا ٹی وی پر انٹرویو کیا تھا، جب وہ کرکٹ میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ راجیش کھنہ کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی فلم ’ارادھنا‘ دیکھ کر اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔

سینئر ادیب ودانشور پرفیسر عبدالحق کی صدارت میں 18 ویں محفوظ الرحمنٰ میموریل لیکچر کا شاندار انعقاد کیاگیا، جس میں معروف ادیبوں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے محفوظ الرحمنٰ کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کے لئے دعائے مغفرت بھی کی۔

قومی آواز کے چیف ایڈیٹر ظفر آغا کا دہلی میں انتقال ہو گیا۔ ان کی تدفین پریس انکلیو قبرستان میں ہوگی۔ آغا صاحب صحت سے متعلق مسائل سے دو چار تھے، لیکن وہ سچے صحافی تھے جو صحافتی اصولوں پر ہمیشہ قائم رہے۔

سائبان فاونڈیشن(رجسٹرڈ) دہلی کے زیر اہتمام معروف صحافی عتیق مظفر پوری کی آٹھویں برسی پر"موجودہ حالات میں صحافت کا کردار‘‘ کے موضوع پر پریس کلب آف انڈیا میں مذاکرہ منعقد، بڑی تعداد میں سینئر صحافیوں نے کی شرکت۔