Bharat Express DD Free Dish

Upendra Kushwaha

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف لیڈروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے بنیادی ڈھانچے، معیشت، خارجہ پالیسی، دفاع اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے اثرات ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اوپندر کشواہا نے بھی مرکزی حکومت کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کوشاں ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی کام واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک مثبت علامت ہے اور اس کام کو مستقبل میں اور بھی زیادہ زور و شور سے آگے بڑھنا چاہیے۔

بی جے پی نے راجیہ سبھا الیکشن کے لئے اپنے 9 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ بی جے پی نے پارٹی کے قومی صدر نتن نبین کو بھی میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے بہار سے نتن نوین اور شیویش رام کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا ہے۔

اپیندرکشواہا کی پارٹی نے بہاراسمبلی الیکشن میں 4 سیٹیں جیتی تھیں۔ اسی وقت سے اس بات کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ ان کو راجیہ سبھا اور ایم ایل سی کی بھی ایک سیٹ دی جائے گی۔

منشور میں روزگار، تعلیم، صحت، خواتین کے بااختیار بنانے اور کسانوں کی خوشحالی پر خاص زور دیا گیا ہے۔ این ڈی اے نے کہا کہ یہ سنکلپ پترا بہار کو اگلے پانچ برسوں میں آتم نربھر، ترقی یافتہ اور جدید ریاست بنانے کا روڈ میپ ہے۔

بہار بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ جیسوال نے بہار اسمبلی انتخابات کے حوالے سے این ڈی اے (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) کے اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوپندر کشواہا معاملہ پر دی یہ جانکاری۔

چراغ پاسوان کی حکمت عملی کا بھی بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چچا پشوپتی پارس کو زبردست شکست دی۔ اس سے عمل سے انہوں نے  ثابت کردیا کہ   وہ رام ولاس پاسوان کے اصلی چانکیہ ہیں ۔ 

پون سنگھ نے لوک سبھا انتخابات 2024 کے وقت بھی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن من چاہی سیٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طور پر کاراکاٹ سے الیکشن لڑا۔ یہ فیصلہ پون سنگھ کو بھاری پڑا اور انہیں اس سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا

بہار کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں یہ ملاقات اور اس پر ردعمل، ظاہر کرتا ہے کہ انتخابات سے قبل اتحاد اور صف بندیاں تیزی سے ہو رہی ہیں۔ پون سنگھ جیسے مقبول چہرے کا سیاست میں بڑھتا کردار این ڈی اے کے لیے نیا ووٹر بیس بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،

بہاراین ڈی اے میں سیٹ شیئرنگ کا معاملہ طے مانا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی پوری طرح تصویرصاف نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ ضرور طے ہے کہ جے ڈی یو100 سے کم سیٹوں پرالیکشن نہیں لڑے گی۔