Bharat Express DD Free Dish

UP Police

 یوپی کی مظفرنگرپولیس نےکانوڑیاترا 2024 سے متعلق ایک متنازعہ حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس سے سیاسی ہنگامہ آرائی ہورہی ہے۔ پولیس نے کانوڑ یاترا کے راستوں میں آنے والے سبھی ریسٹورنٹ، دکانوں، ہوٹلوں اورٹھیلے والوں سے اپنی دکان کے آگے نام لکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اترپردیش کی حکومت چھوا چھوت کو پرموٹ کر رہی ہے۔ مظفرنگر کے ڈھابوں سے مسلمانوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ کیا آپ ایک ہی طبقے کے لئے کام کریں گے؟

کانگریس لیڈر نے کہا، "پھل سبزی فروشوں اور ریستوراں ڈھابہ کے مالکان کو کانوڑ یاترا کے راستے پر بورڈ پر اپنا نام لکھنا ضروری ہوگا ، یہ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے یا دلتوں کے معاشی بائیکاٹ کا

اترپردیش کے گونڈہ میں ڈبروگڑھ ایکسپریس کے 12-10 کوچ پٹری سے نیچے اترگئے۔ اطلاعات کے مطابق، چنڈی گڑھ سے گورکھپور جاتے ہوئے ٹرین کے ڈبے پٹری سے اترگئے۔

 مظفرنگر پولیس نے حال ہی میں کانوڑ یاترا کے دوران سبھی ہوٹلوں، دوکانوں اور ٹھیلے والوں کو مالک کا نام عوامی طورپر لکھنے کا حکم دیا ہے۔ جاوید اخترنے اس فیصلے کا موازنہ ناجیوں سے کیا ہے۔

اترپردیش پولیس کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کانوڑ یاترا کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایسے میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی تمام کھانوں اور دکانوں اور گاڑیوں پر مالک کا نام لکھنے کے حکم کی توثیق کر دی گئی ہے، تاکہ کانوڑیوں کو پریشانی نہ ہو۔

بریلی کے مولانا توقیررضا خان نے 21 جولائی کو 5 ہندو جوڑوں کا نکاح اور مذہب تبدیلی کرانے کے لئے پروگرام کے لئے ضلع انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی، جوکہ نہیں ملی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نکاح کروانے کا پروگرام منسوخ کردیا ہے۔

جب بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ سے مولانا توقیر رضا کے مذہب تبدیل کرنے کے اعلان کے متعلق پوچھا گیا تو وہ برہم ہوگئے۔ مولانا کے اس بیان پر انہوں نے ہندوؤں کے صبر کا امتحان لینے کی بات بھی کی۔

ہمانشو ترویدی کی یہ رہائش گاہ کئی مہینوں سے بند تھی۔ ترویدی خاندان اندرا نگر سے گومتی نگر میں بنے نئے مکان میں شفٹ ہو گیا تھا اور تب سے یہ گھر بند پڑا تھا۔ چوری کا یہ معاملہ غازی پور تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

بابا کی گرفتاری پر ماتھر نے کہا کہ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھتی ہے، جیسا کہ آج تفتیش کا پہلا دن تھا، ملزمین کو گرفتار کیا گیا، لیکن جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھتی ہے، تفتیشی افسر فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو گرفتار کیا جائے۔