Bharat Express DD Free Dish

Umar Khalid

دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے دائر ضمانت درخواستوں پر دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ کی ڈویژن بنچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔

مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِحراست مدت بھی رہی، جوفروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتارکئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردارادا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

جے این یو میں عمر خالد کی کتاب ’فریکچرڈ کمیونٹیز: آدیواسی ہسٹری اور پاور کی پولیٹکس‘ پر ایک ڈسکشن پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا اہتمامJNUSU نے اپنی سطح پر کیا تھا۔ پروگرام شروع ہوتے ہی اے بی وی پی  کے کارکنان نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ کیا تھا پورا معاملہ ؟ جانیے یہاں۔

ملک متعصم خان نے کہا کہ ہم متعلقہ عدالتوں اور استغاثہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ آئینی آزادیاں ہمارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہمارے جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کو متاثر کرتی ہے۔

سماعت کے دوران شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل طالب مصطفیٰ نے دلیل دی کہ کیا کسی ملزم پرایک سال تک ضمانت کی درخواست دائرنہ کرنے جیسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرسپریم کورٹ کی بڑی بینچ کوبھی غورکرنا چاہئے۔

ککڑڈوما کورٹ نے دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام اورعمرخالد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ سماعت کے دوران وکلاء نے سپریم کورٹ کے سابقہ ​​فیصلے کی تشریح اورمعاملے پرغورکرنے والے لارجر بینچ کے امکان سے متعلق دلائل پیش کئے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات اس وقت تک لاگورہیں گی جب تک بڑی بنچ سے وضاحت نہیں مل جاتی۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت بھی دی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنی تنظیمی توسیع کے تحت تین نئے ترجمانوں کی تقرری کا اعلان کیا ہے۔ ان تقرریوں کے بعد سوشل میڈیا پر سی جے پی کے سیاسی مؤقف اور عام آدمی پارٹی (آپ) سے مبینہ تعلقات سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

دہلی کی کڑکڑ ڈوما کورٹ نے عمرخالد کی 15 دنوں کی عبوری ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عمرخالد نے ماں کی دیکھ بھال کے لئے عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے عمر خالد کی 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

بینچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے توعدالتیں یواے پی اے کے معاملات میں ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے وقت اس فیصلے کو مدنظرنہیں رکھا۔