Urdu Conclave 2026

Supreme Court

تین دن پہلے یعنی 10 اپریل کو دہلی ہائی کورٹ نے سی ایم کیجریوال کی گرفتاری اور عدالتی حراست کو درست قرار دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

گوتم نولکھا کو ہدایات دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ انہیں گھر میں نظربندی کے دوران فراہم کی گئی سیکورٹی کا پورا خرچہ ادا کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے مختارانصاری کے بڑے بیٹے عباس انصاری کو تین دنوں کے لئے راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے عباس انصاری کو اپنے والد مختارانصاری کی قبرپر فاتحہ پڑھنے کی اجازت دی۔

مئو کے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کی گزشتہ ماہ جیل سے باندہ اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی ہے جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جیل میں زہر دیا گیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہیمانتا بسوا سرما نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج غلط فہمی پر مبنی تھا اور اب انہیں (مظاہرین) اپنا جواب مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے نفاذ کو کئی دن گزر چکے ہیں۔ آسام میں اب تک صرف ایک درخواست آئی ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ناگپور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صد سالہ تقریبات میں کہا، ’’ہماری جیسی متحرک اور عقلی جمہوریت میں، زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی سیاسی نظریے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عام آدمی پارٹی کے وکیل نے کہا کہ جل بورڈ دہلی میں پینے کے پانی کی فراہمی کرتا ہے۔ جل بورڈ کو رقم جاری نہیں کی جا رہی ہے، جس کے سبب دہلی کی عوام کو پریشانی ہو رہی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی مدرسہ ایکٹ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ عدالت ہائی کورٹ کو چیلنج دینے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں پر یوپی حکومت سمیت دیگر سبھی فریق کو نوٹس جاری کرتی ہے۔ 30 جون 2024 کو یا اس سے پہلے جواب داخل کرنا ہوگا۔

یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ اس نے ہائی کورٹ کے حکم کو قبول کر لیا ہے۔ مدرسہ کی وجہ سے حکومت کو سالانہ 1096 کروڑ روپے کا خرچہ ہو رہا تھا۔ مدارس کے طلباء کو دوسرے اسکولوں میں داخل کیا جائے گا لیکن درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ اس حکم سے 17 لاکھ طلباء اور 10 ہزار اساتذہ متاثر ہوں گے۔

اس معاملے میں، سپریم کورٹ نے انتخابات میں ووٹر سے قابل تصدیق پیپر آڈٹ ٹریل یعنی و وی پیٹ پرچیوں کی مکمل گنتی کرنے کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جواب طلب کیا تھا۔پراچہ نے اپنی درخواست میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آر پی ایکٹ کے مطابق کاغذی بیلٹ کو ای وی ایم سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔