Bharat Express DD Free Dish

:CM Basavaraj Bommai کرناٹک سی ایم نے کہا سرحدی تنازع اورالیکشن کے بیچ کوئی تعلق نہیں

ہم ریاست کی سرحدوں اور اپنے لوگوں اور مہاراشٹر، تلنگانہ اور کیرالہ میں رہنے والے کنڑ بولنے والے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں

کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بسواراج بومئی

 مہا راشٹر کے ساتھ بڑھتے  سرحدی تنازع کے بیچ کرناٹک کے وزیر اعلی ٰ بسوراج بومئی نےکہاکہ دونوں ریاست کے لوگوں کے بیچ تعلقات کشیدہ نہیں ہونے چاہئے۔ ریاست کی سرحدوں  اور  وہاں کے رہنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ سرحد کے تنازع کو لے کر قانونی جنگ میں کرناٹک کی جیت ہوگی کیوں کہ ریاست کا رخ قانونی او رآئینی ہے۔

مہاراشٹر کے وزراء چندرکانت پاٹل اور شمبھوراج دیسائی منگل کو کرناٹک کے بیلگاوی کا دورہ کرنے والے تھے ۔ مہاراشٹر کے کچھ لیڈروں کے بیان کو لے کر  ٰ بسوراج بومئی حکومت پر آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی مسئلہ اٹھانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی نے پیر کو کہا کہ وہ اپنے مہاراشٹر کے ہم منصب ایکناتھ شندے سے کہیں گے کہ وہ اپنے کابینہ کے ساتھیوں کو بیلگاوی کا دورہ کرنے سے روکیں کیونکہ ان کے دورے سے سرحدی ضلع میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔
ہم ریاست کی سرحدوں اور اپنے لوگوں اور مہاراشٹر، تلنگانہ اور کیرالہ میں رہنے والے کنڑ بولنے والے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا، “آئندہ اسمبلی انتخابات پر کرناٹک کے موقف اور سرحدی مسئلہ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے، جسے مہاراشٹر نے کئی سالوں سے اٹھایا ہے۔ جیسا کہ مہاراشٹرا نے تنازعہ کھڑا کیا ہے، کرناٹک سے ردعمل آیا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو رہنمائوں کے دورے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی ہدایات دیں اور واضح کیا کہ حکومت قانونی کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔

۔بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read