Bharat Express DD Free Dish

SPAN Magazine

امریکی فوج کے اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیمی نظام میں افسران صرف جنگی مہارتیں ہی نہیں سیکھتے بلکہ گہرے علمی مطالعے، حقیقی حالات سے قریب جنگی مشقوں اور شہری اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر حکمت عملی مرتب کرنے والے رہنما کے طور پر تیار ہوتے ہیں۔

اس مضمون کو پڑھیں اور دریافت کریں کہ   امریکہ میں کھیلوں کا تکنیکی نظام کس طرح نئی اختراعات کو کاروباری مواقع، مؤثر شراکت داریوں اور کاروباری ترقی میں تبدیل کرتا ہے۔

فریڈم 250 سلَیم ڈنک ایکس پیرئنس کے دوران نئی دہلی میں نوجوان باسکٹ بال کھلاڑیوں نے  این بی اے کے نمائندوں اور باسکٹ بال ہال آف فیم کے رکن ولاڈے ڈیواک سے ملاقات کی جس سے امریکہ۔ ہند کھیل سفارت کاری کی ایک عملی مثال سامنے آئی۔

امریکہ کا  مصنوعی ذہانت والا نیا فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسی سازی، جدت طرازی اور شراکت داریاں مل کر کس طرح مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کے اگلے مرحلے کی  تشکیل کر رہی ہیں۔

امریکہ اور ہندوستان علمی ملکیت کے نظام کو مضبوط بنا  رہے ہیں تاکہ جدّت  کے تحفظ کو یقینی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں قابلِ اعتماد تعاون  کوممکن بنایا جاسکے۔

امریکی مرکز برائے انسدادِ امراض(سی ڈی سی )ہندوستان کے ساتھ اشتراک کررہا ہے تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کس حد تک جراثیم کُش مزاحمت کو زیادہ تیزی کے ساتھ شناخت کرنے اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

جیسے جیسے مصنوعی منشیات کا نیٹ ورک پھیلتا جارہا ہے امریکی ادارے فینٹانِل کی اسمگلنگ کوروکنے کے لیے ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں ، رسد و ترسیل کے نظام اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل پر توجہ مرکوز کررہے ہیں تاکہ ان کی ترسیل کے نیٹ ورک کو مؤثر طریقے پر ناکام بنایا جاسکے۔

آئی آئی ٹی کانپور اور این وائییو ٹنڈن اسکول آف انجینئرنگ کے درمیان شراکت اس امر کی عکّاس ہے کہ جدید ٹیکنالوجیوں میں مشترکہ تحقیق تجربہ گاہ کی حدود سے نکل کر عملی اطلاق تک پہنچنے کے ساتھ امریکہ۔ہندوستان تعاون کو بھی مزید مستحکم کررہی ہے۔

چوں کہ بحری مواصلاتی تار جدید ڈیجیٹل نظام  کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں ، اس لیے امریکہ، ہندوستان سمیت اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان کی حفاظت اور ہند۔بحرالکاہل خطے میں رابطہ کاری کو مضبوط کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔

اس مضمون میں جانیں کہ امریکہ آزادانہ ندرت ، لچکدار طرز حکمرانی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے کیسے مصنوعی ذہانت کا ایک عالمی نمونہ بنا رہا ہے۔