Bharat Express DD Free Dish

Southern Lebanon

لبنان کی فوجی قیادت نےکہا اسرائیلی فورسز بدھ کو سرحدی حدود سے 400 میٹر اندر خربت یارون اور باب الادیسہ میں داخل ہوئیں جو مختصر وقت میں واپس نکل گئیں۔عرب نیوز کے مطابق اسرائیل فورسز نے اس مداخلت کو حزب اللہ کے خاتمے کے ساتھ جوڑتے ہوئے درست قرار دیا۔

ناصر کینانی نے کہا کہ ’صہیونی حکومت حالیہ برسوں میں متعدد شکستوں کی وجہ سے مزاحمتی گروپوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ’لبنان میں فضائی حملوں اور امریکی بموں کا استعمال دیکھا گیا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کے فوجی حالیہ مہینوں میں اس مشن کے لیے تربیت اور تیاری کر رہے تھے۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس گروپ پر اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک کہ سرحد پر بے گھر ہونے والے اسرائیلیوں کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانا محفوظ نہ ہو جائے۔

۔لبنان کے وزیرِ صحت فراس عبیاد نے کہا کہ پیر کی صبح سے جاری اسرائیل کے حملوں میں لگ بھگ 569 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 1900 زخمیوں کو اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

حزب اللہ کی طاقت کی بات کریں تو اس کے پاس بھاری ہتھیاروں سے لیس غیر سرکاری گروپوں کی فوج ہے، اس کے پاس راکٹ اور ڈرون سمیت کئی خطرناک ہتھیار بھی ہیں، جو اسرائیل کے کسی بھی حصے کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے اسرائیل کی طرف سے وسیع پیمانے پر لبنان میں ہونے والے حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ توقع ہے کہ لبنان کا حشر غزہ جیسا نہیں ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورا لبنان جنگ کی لپیٹ میں ہے اور شہریوں کو مل جل کراس مشکل سے نکلنا چاہیے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے لبنان اور شام میں اس کے ارکان کے خلاف پیجر اور واکی ٹاکی حملے "تمام سرخ لکیروں" کو عبور کر گئے ہیں اور یہ گروپ جوابی کارروائی کرے گا اور غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف اپنی لڑائی میں حزب اللہ غیرمتزلزل ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، لبنانی فوج نے جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف تقریباً آٹھ ڈرونز اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 150 میزائلوں سے حملہ کیا۔

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے ذرائع نے بتایا کہ اپارٹمنٹ کے ملبے سے کئی لاشیں نکالی گئی ہیں، جن کا تعلق ابو ہاشم خاندان سے تھا اور یہ غزہ شہر کی الجالہ اسٹریٹ پر واقع تھا۔

گزشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے حماس کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے۔ حزب اللہ نے حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔ اس کے بعد سے لبنان اسرائیل سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔