Bharat Express DD Free Dish

Shiv Sena

سنجے راوت نے تاریخ کے بدنام کردار جے چند سے ایکناتھ شندے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جے چند کو سب سے بڑے غداروں میں شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح شندے نے بھی شیوسینا کے ساتھ وفاداری توڑی۔

انتخابی کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 55 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو گزشتہ انتخابات کے آس پاس ہی رہی۔ دادر، پریل اور بوریولی جیسے سیاسی طور پر سرگرم علاقوں میں لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں،

مہاراشٹر میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مجموعی طور پر 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کرائی گئی، جس میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

1966 میں بال ٹھاکرے نے شیوسینا کی بنیاد رکھی تھی اور صرف دو سال بعد، 1968 میں ہی پارٹی نے بی ایم سی انتخابات میں 42 نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد شیوسینا نے لگاتار اپنی گرفت مضبوط کی اور ممبئی کی سیاست میں گہرا اثرقائم رکھا۔

بی ایم سی الیکشن 2026 سے قبل ممبئی کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ کانگریس لیڈر اکھیلیش یادو نے شیوسینا (یو بی ٹی) کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے بی جے پی اور ایم این ایس پر شمالی ہند کے لوگوں کی توہین کا الزام عائد کیا ہے۔ اس بیان کے بعد انتخابی سیاسی مساوات بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

ممبئی بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی 137 نشستوں پر، شندے گروپ 90 نشستوں پر، ادھو سینا 150 نشستوں پر اور منسے 70 نشستوں پر میدان میں اتری ہے۔ کانگریس اتحاد نے مجموعی طور پر 195 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ 32 نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہوگا۔

بی جے پی اور مہایوتی اتحاد نے بغیر کسی مخالفت کے تقریباً 68 سیٹوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکمران اتحاد نے امیدواروں کو انتخابات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیوں اور پیسے کا استعمال کیا۔

پریانکا چترویدی نے سوال اٹھایا کہ اگر اے آئی پلیٹ فارمز اس طرح کے خطرناک پرامپٹس کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو خواتین کی ڈیجیٹل سکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔آئی ٹی اور کمیونیکیشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن کی حیثیت سے انہوں نے وزیر سے اپیل کی کہ اس معاملے کو ایکس اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سختی سے اٹھایا جائے۔

سیاسی حلقوں میں اس اتحاد کے اعلان کے بعد سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اس بار انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔66 ارکان پر مشتمل میونسپلٹی میں دونوں جماعتیں 50-50 کے فارمولا کے تحت انتخابات لڑیں گی۔

بیس سالہ دشمنی کو ختم کرتے ہوئے اب ممبئی پر راج کرنے کے لیے دو بھائی ایک ہو گئے ہیں۔ بالا صاحب ٹھاکرے کی وراثت کو بچانے کے لیے ٹھاکرے برادران نے جو سیاسی داؤ کھیلا ہے، اس نے مخالفین کی نیند اُڑا دی ہے۔ اس اتحاد سے تین بڑے فائدے ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔