Bharat Express DD Free Dish

Sharjeel Imam

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں عائد شرائط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، دونوں پر فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کا الزام۔

مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِحراست مدت بھی رہی، جوفروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتارکئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردارادا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

ملک متعصم خان نے کہا کہ ہم متعلقہ عدالتوں اور استغاثہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ آئینی آزادیاں ہمارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہمارے جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کو متاثر کرتی ہے۔

سماعت کے دوران شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل طالب مصطفیٰ نے دلیل دی کہ کیا کسی ملزم پرایک سال تک ضمانت کی درخواست دائرنہ کرنے جیسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرسپریم کورٹ کی بڑی بینچ کوبھی غورکرنا چاہئے۔

ککڑڈوما کورٹ نے دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام اورعمرخالد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ سماعت کے دوران وکلاء نے سپریم کورٹ کے سابقہ ​​فیصلے کی تشریح اورمعاملے پرغورکرنے والے لارجر بینچ کے امکان سے متعلق دلائل پیش کئے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات اس وقت تک لاگورہیں گی جب تک بڑی بنچ سے وضاحت نہیں مل جاتی۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت بھی دی ہے۔

بینچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے توعدالتیں یواے پی اے کے معاملات میں ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے وقت اس فیصلے کو مدنظرنہیں رکھا۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر 30 مارچ کی شام تک شرجیل امام کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

کانگریس لیڈر راکیش سنہا نے واضح کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر لیے گئے تمام فیصلے سب کے لیے قابلِ قبول ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کی مضبوطی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری سے ہی ممکن ہے، اور عدالتی احکامات کا احترام کرنا ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے۔