Bharat Express DD Free Dish

Sanjay Raut

شیوسینا یو بی ٹی کے سینئر لیڈر سنجے راوت کے حالیہ بیان نے ممبئی کے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ ایک عوامی پروگرام کے دوران سنجے راوت نے نہ صرف بی جے پی اور شندے گروپ پر شدید تنقید کی بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی قیادت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایکناتھ شندے کے 35 اراکین ٹوٹنے والے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رویندر چوہان کو بی جے پی کے ریاستی صدراس لئے ہی بنایا گیا ہے۔

سنجے راوت نے کہا کہ حکومت نے لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی بات کی ہے۔ لیکن ہمیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ اس حکومت نے اب تک کتنے نوجوانوں کو نوکریاں دی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس حکومت سے کسی بھی قسم کی امید لگانا ٹھیک رہے گا۔

سنجے راؤت نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھن کھڑ کے اچانک استعفیٰ اور اس کے بعد سے ان کے منظرعام سے غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مہا کمبھ میں سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس پر جب سنجے راوت سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ کمبھ میں ہزاروں لوگ مرے اور ہزاروں لوگ لاپتہ ہو گئے۔ جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

سنجے راوت نے بلٹ ٹرین پروجیکٹ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی سے احمد آباد تک بلٹ ٹرین پر پوری توجہ اور بجٹ دیا جا رہا ہے۔ لیکن، لوکل ٹرینوں کی حالت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ غریب لوگ لوکل ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔ لیکن، حکومت کی ترجیح بلٹ ٹرین ہے۔ یہ سلامتی اور ضروریات کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

شیوسینا (یوبی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا کہ اگرمیں ہی بھاگ جاتا تواورلوگ بھاگ جاتے۔ میں جو بھی ہوں اپنی پارٹی کی وجہ سے ہوں۔ میں بھاگ کرنہیں جاسکتا۔

سنجے راؤت کی کتاب ’’ہیل ٹوہیون‘‘ نے مہاراشٹرکی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے۔ کتاب میں ای ڈی کی کارروائی، اراکین اسمبلی کا پارٹی بدلنا اوربی جے پی لیڈران پرالزام کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کتاب میں رویندر وائیکرجیسے لیڈران کے بحران اور ادھو ٹھاکرے کی مایوسی کا بھی ذکرہے۔

سنجے راوت نے سامنا میں لکھا، امبیڈکر کہتے ہیں، 'نگلنے' کا لمحہ قریب آرہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کون کس کو نکالتا ہے

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کرن کمار چوان نے بتایاکہ ایک ٹیم تعمیر کو ہٹانے آئی، لیکن اسی وقت بھیڑ نے احتجاج شروع کر دیا۔ درگاہ کے معتمد اور ایک سینئر شہری انہیں سمجھانے گئے، لیکن انہوں نے انہیں نظر انداز کیا اوران پر اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔