Bharat Express DD Free Dish

Sanae Takaichi

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ بھارت کی ثقافت اور وزیراعظم مودی کی گرمجوش مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ قائم ہونے والے باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہند-جاپان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

کھرکھودا پلانٹ کو سوزوکی کے "اسمارٹ فیکٹری" تصورکے تحت تیارکیا گیا ہے، جہاں انڈسٹری 5.0 ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے تاکہ پیداوار کے معیار، تحفظ اورپیداواری صلاحیت کو مزید بہتربنایا جا سکے۔ پلانٹ میں شمسی توانائی، بایوگیس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور دیگرماحول دوست ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس کی مکمل بجلی کی ضرورت قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے پوری کی جائے گی۔

بھارت اورجاپان نے اقتصادی شراکت داری کونئی رفتاردینے کا فیصلہ کیا۔ بھارت-جاپان مشترکہ اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے جاپانی کمپنیوں کودرپیش مسائل کے حل کے لئے "جاپان بزنس ویک" شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کے تحت وزیراعظم کے دفترکے سینئرحکام براہِ راست جاپانی سرمایہ کاروں سے بات چیت کریں گے

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں سانے تاکائچی کا خیرمقدم کیا، جہاں دونوں لیڈروں کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا، جبکہ سانے تاکائچی نے بھارت اور جاپان کے قومی پرچموں کے سامنے سر جھکا کر احترام کا اظہار بھی کیا۔

یہ ملاقات 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ جاپان کی وزیرِاعظم سانے تاکائچی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا سرکاری دورۂ بھارت ہے،

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں۔ جاپان اس وقت بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، جبکہ بھارت جاپانی کمپنیوں کے لیے تیزی سے ابھرتی ہوئی اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی منزل بن چکا ہے۔

جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائیچی اپنے پہلے تین روزہ تاریخی دورے پر نئی دہلی پہنچ گئیں، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں لیڈر 16ویں بھارت-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران دوطرفہ تعلقات، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور علاقائی و عالمی امور سمیت متعدد اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

جاپان کی طرف سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔