نئی دہلی : جاپان کی وزیرِ اعظم سانے تاکائچی کے تین روزہ سرکاری دورۂ بھارت کے دوران جاپانی کمپنیوں کی جانب سے بھارت میں تقریباً 12.5 ارب امریکی ڈالر (2 ٹریلین ین) کی سرمایہ کاری کے اعلانات متوقع ہیں۔ اس پیش رفت کو بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی و تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔نئی دہلی میں منعقد ہونے والے جاپان-انڈیا اکنامک فورم میں 150 سے زائد جاپانی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری گزشتہ سال جاپان کی جانب سے کیے گئے اس وعدے کا حصہ ہے جس کے تحت آئندہ دس برسوں میں بھارت میں 10 ٹریلین ین کی نجی جاپانی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔جاپان کے نائب چیف کابینہ سکریٹری ماساناؤ اوزاکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ اقتصادی فورم میں 150 سے زیادہ جاپانی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے جاپانی اخبار دی یومیوری شمبن کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 2 ٹریلین ین مالیت کی نئی سرمایہ کاری کا مقصد بھارت میں جاپانی کمپنیوں کی موجودگی اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا ہے۔دورے کے دوران بھارت اور جاپان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ذخائر قائم کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور کریں گے۔
My remarks during the India-Japan Joint Economic Forum. https://t.co/dhFvUo0YET
— Narendra Modi (@narendramodi) July 2, 2026
اس کے علاوہ دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی سلامتی اور صنعتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی اور جاپانی وزیرِ اعظم سانے تاکائچی مشترکہ طور پر ہریانہ کے کھرکھودہ میں ماروتی سوزوکی انڈیا کے نئے مینوفیکچرنگ پلانٹ کا افتتاح بھی کریں گے۔ تقریباً 35 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والا یہ پلانٹ بھارت میں ماروتی سوزوکی کا چوتھا پیداواری مرکز ہوگا اور اسے “میک اِن انڈیا” مہم کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں سانے تاکائچی کا خیرمقدم کیا، جہاں دونوں لیڈروں کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ ملاقات سے قبل دونوں لیڈروں نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا، جب کہ سانے تاکائچی نے بھارت اور جاپان کے قومی پرچموں کے سامنے سر جھکا کر احترام کا اظہار بھی کیا۔ سانے تاکائچی بدھ کی شام نئی دہلی پہنچی تھیں اور ان کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ روانگی سے قبل ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت اور جاپان کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران ان کی کوشش ہوگی کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ تین اہم شعبوں میں ٹھوس پیش رفت حاصل کی جائے، جن میں بھارت-جاپان تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانا، اقتصادی سلامتی میں تعاون کو فروغ دینا، اور سرمایہ کاری و اختراعات کے میدان میں دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراک کو مزید وسعت دینا شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

