Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Jama Masjid

عدالت نے سنبھل ضلع انتظامیہ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسجد میں صرف محدود تعداد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے مناظر خان کی جانب سے داخل کی گئی عرضی کو ہدایات کے ساتھ نپٹا دیا اور ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ نماز کے دوران مکمل سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

معاملے کی جانچ کے بعد تحصیلدار کی عدالت نے امام اور ان کے بھائی کو زمین خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور دونوں پر تقریباً 6.94 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، عدالت کے حکم کے بعد متفرق فریق کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ زمین خالی کریں۔ اگر مقررہ مدت میں زمین خالی نہیں کی گئی تو ریونیو محکمہ اور مقامی انتظامیہ قبضہ ختم کرنے کے لیے مزید کارروائی کرے گی، یعنی مسجد، مکان اور درگاہ پر بلڈوزر چلایا جا سکتا ہے۔

سنبھل میں شاہی جامع مسجد–ہری ہر مندر تنازع کے درمیان انتظامیہ نے 30 دسمبر کو متنازع مقام کے قریب واقع قبرستان کی زمین کی پیمائش کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنبھل میں گزشتہ سال ہوئے فساد کے بعد بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں سنسنی خیزدعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کمیٹی نے جمعرات کو سونپ دی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکرکیا گیا ہے کہ فساد اورخوشنودی کی سیاست نے سنبھل کی آبادی کوبدل دیا ہے۔

سنبھل جامع مسجد کمیٹی کے صدرظفرعلی ایک بار پھرتنازعہ میں گھرگئے ہیں۔ ظفرعلی اوران کے 50 سے 60 حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر جلوس نکالنے کا الزام ہے۔

چندوسی عدالت نے اترپردیش کے سنبھل میں ہری ہرمندر-جامع مسجد تنازعہ کی اگلی سماعت 21 جولائی کوطے کی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی درخواست کومسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے سروے کے حکم کوبرقراررکھا ہے۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے 1100 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں ایس پی ایم پی سمیت 22 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔

سنبھل جامع مسجد سروے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی نظرثانی کی عرضی کو خارج کرکے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے ریویو پٹیشن میں مسلم فریق کی دلیلوں کو نا منظور کردیا ہے۔

اترپردیش کی سنبھل شاہی مسجد کے پاس موجود کنویں کے تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسلم فریق نے کنویں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ کنواں مذہبی استعمال کے لئے ہے۔ وہیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ سبھی لوگ کنویں کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی عدالت نے 2 ہفتے میں جواب مانگا ہے۔

اس متنازعہ مقام  کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہائی کورٹ نے اس کی پینٹنگ کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد مسجد کمیٹی نے مسجد کی بیرونی دیواروں کو پینٹ کروا دیا۔

وزیراعلیٰ یوگی نے ایک انٹرویومیں کہا کہ 100 ہندوخاندانوں کے درمیان ایک مسلم فیملی محفوظ ہے۔ انہیں اپنے سبھی مذہبی کاموں پرعمل کرنے کی آزادی ہے، لیکن کیا 100 مسلم فیملی کے درمیان 50 ہندو محفوظ رہ سکتے ہیں۔