Bharat Express DD Free Dish

Samajwadi Party

ایس پی کے درمیان پوسٹر وار جاری ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک کارکن نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لکھنؤ دفتر میں اکھلیش یادو سے متعلق ہورڈنگ لگا دی تھی، جس پر اکھلیش یادو کو مستقبل کا وزیر اعظم بتایا گیا تھا۔

ایس پی سربراہ نے کہا، ''2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی حکومت کو کسی بھی قیمت پر ہٹانا ہوگا۔ بی جے پی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں اور نوجوانوں سمیت ہر طبقے کو برباد کر دیا گیا ہے۔

مایاوتی نے لوک سبھا کی سیکورٹی میں کوتاہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سب کو مل کر پارلیمنٹ کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور الزامات اور جوابی الزامات کے بجائے سب کو اس معاملے کو اٹھانا چاہئے۔

یوپی کی حکومت کے ذریعہ ریاست کے ریلوے اور میٹرو اسٹیشنوں پر پریمیم برانڈ شراب فروخت کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے پرمخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ اکھلیش یادو کے بعد ورون گاندھی نے بھی اس پرسوال کھڑے کردیئے ہیں۔

میٹنگ کے بعد اکھلیش یادو نے سیٹ شیئرنگ کے معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں بہت جلد ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے تیار ہیں اور میدان میں اتریں گی۔ بہت جلد نشستوں کی تقسیم ہوگی

اس سے پہلے ایس پی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کی رکنیت ختم ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ وکرم سنگھ سینی، جو کھتولی سے بی جے پی کے ایم ایل اے تھے، نے بھی اپنی رکنیت کھو دی تھی۔

ایم پی انتخابات کے دوران سیٹوں پر ہم آہنگی اور تال میل کی کمی کی وجہ سے کانگریس اور ایس پی نے الگ الگ الیکشن لڑا تھا۔ اتنا ہی نہیں سابق ایم پی کانگریس صدر کمل ناتھ اور اکھلیش یادو کے درمیان لفظی جنگ بھی شروع ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ کر جانکاری دیتے ہوئے بی جے پی کے رکن اسمبلی نے لکھا کے قومی دارلحکومت دہلی جاتے وقت ریاست کے حزب اختلاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو سے ملاقات کی

ایس پی لیڈر نے کہا کہ اسپتالوں میں عام بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا۔اسپتالوں کی جو تصویریں اخبارات میں نظر آتی ہیں وہ بہت افسوسناک ہیں۔ ڈینگی جیسی بیماری کا علاج نہ کرنے والی حکومت ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا خواب دیکھ رہی ہے۔

نیتا جی نے پارٹی کے سوشلسٹ نظریہ اور پالیسیوں کا گاؤں گاؤں سائیکل کے ذریعے پرچار کیا اور تمام پسماندہ طبقوں کو متحرک کیا جو صدیوں سے محروم تھے، ان میں سیاسی شعور بیدار کیا اور انہیں اقتدار کی راہداریوں تک لے جانے کی کوشش کی