Bharat Express DD Free Dish

Russia

 آچاریہ لوکیش یوکرین، روس، اسرائیل اور فلسطین کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسلام، عیسائیت، بدھ مت، یہودیت، ہندو مت، تاؤ مت اور زرتشت مت کے مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور جنگوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ آچاریہ لوکیش’’ڈیجیٹل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں روحانی اقدار‘‘ کے موضوع پر بھی خطاب کریں گے۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے باعث فخر ہوگی۔ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن اسے طنزیہ انداز میں لیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔

انھوں نے  مزید کہا کہ تجارت تجارتی اصولوں کے تحت ہوتی ہے اور اگر بھارتی کمپنیوں کو کسی بھی ملک سے سستا تیل ملتا ہے تو وہ ضرور وہاں سے خریدیں گی۔

تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی ٹیرف کا ہندوستانی معیشت پر ’’نہ کے برابر‘‘ اثر پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جی ڈی پی کا نقصان 0.2 فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

جمعرات کے روز روس نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ روس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شیلنگ اور ڈرون حملوں میں 7 افراد ہلاک اور 120 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ امریکی حکام، مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ اور امریکی سونامی وارننگ مراکز کے مشوروں پر توجہ دیں۔ ساتھ ہی، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اونچی جگہوں پر چلے جائیں، ساحلی علاقوں سے دور رہیں، ہنگامی تیاری کریں اور سونامی کی وارننگ جاری ہونے پر اپنے آلات کو چارج رکھیں۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر +1-415-483-6629 اور ای میل بھی دستیاب کر دی گئی ہے۔

بھارت میں اس ممکنہ پابندی کے اشاروں کو ’’دباؤ کی سیاست‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عوامی سطح پر قومی خودمختاری کے بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔

ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی پابندیوں کی پاسداری کرتا ہے لیکن یک طرفہ دباؤ کو اپنی قومی مفاد پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔

اس سے قبل دونوں لیڈروں نے فروری 2025 میں جوہانسبرگ میں ملاقات کی تھی، جہاں انھوں نے ہندوستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعاون کی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔