Bharat Express DD Free Dish

Russia

یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں کہا گیا کہ زیلنسکی کے فیصلے سے یوکرینی باغی فوج سے وابستہ ان ہزاروں متاثرین اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا، جنہیں پولینڈ میں گہرا احترام حاصل ہے۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس بار ماسکو نے بھی یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا اثر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے علاقے میں تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع ایک تیل ریفائنری کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

فرانسیسی بحریہ کی اس کارروائی کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں اور سمندری قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا کہ اگر بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ایک ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کہیں نہ کہیں دوسرے ملک کے اشاروں پر چل رہی ہے۔

روس نے ایران کے خلاف مبینہ امریکی۔اسرائیلی مشترکہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فوجی مہم کی اصل قیمت عام شہریوں کو چکانی پڑ رہی ہے اور آئندہ بھی اس کے سنگین نتائج عوام کو ہی بھگتنا ہوں گے۔ روسی حکام نے الزام عائد کیا کہ ایران کی جانب سے بتائے گئے خطرات کو جواز بنا کر ایک خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے قائم کیے گئے مجوزہ ”غزہ پیس بورڈ“ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے تین مستقل ارکان فرانس، چین اور برطانیہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔