Bharat Express DD Free Dish

Political News

بی ایل ایف نے مزید بتایا کہ اس 72 گھنٹے طویل آپریشن میں 24 معدنیات لے جانے والے ٹرک اور گیس ٹینکر تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچاتے ہوئے پانچ سے زائد ڈرون اور کواڈ کاپٹرز بھی مار گرائے گئے۔

پارٹی کو امید ہے کہ اس تقریب میں 40,000 سے زائد کارکنان شرکت کریں گے، جو ریاست میں اپنی تنظیمی طاقت کو متحرک کرنے کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے

’’روزگار میلہ‘‘ پی ایم مودی کی جانب سے روزگار پیدا کرنے کو اولین ترجیح دینے کے عزم کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ’’روزگار میلہ‘‘ وزیر اعظم مودی نے 22 اکتوبر 2022 کو مشن موڈ میں شروع کیا تھا۔

موہن بھاگوت نے پِنگلے جی کے ساتھ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا:"ایک بار ہم نے ان سے کہا – اب بس، آرام کرو۔ تب بھی انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں نے بہت کام کیا ہے۔ اگر کوئی ان کے کام کی تعریف کرتا تو وہ ہنسی مذاق میں ٹال دیتے تھے۔"

یہ وزیرِاعظم مودی کا  نامیبیا  کا پہلا دورہ ہے، اور گزشتہ 27 برسوں میں کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا تیسرا دورہ ہے۔

واقعے کے بعد 20 سے زائد فائر بریگیڈ اہلکار، ایک این ڈی آر ایف ٹیم، ایک ایس ڈی آر ایف ٹیم، دو فائر بریگیڈ کشتیاں، تین فائر ٹینکر، 10 سے زائد ایمبولینسز اور 5 سے زائد میڈیکل ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

میتا رویندر کمار کراہے اپنی وزیراعظم مودی سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ میری وزیراعظم سے دور سے ہی ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں ہاتھ ہلا کر خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ کل میں آپ کے استقبال میں گانے جا رہی ہوں، تو وہ مسکرا دیے۔

وزیراعظم مودی نے کہا: "ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں یکساں نقطۂ نظر رکھتے ہیں — زیرو ٹالرنس اور زیرو ڈبل اسٹینڈرڈ۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہم دہشت گردی اور اس کے حامیوں دونوں کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔"

بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ معاہدہ بنیادی طور پر معلومات کے تبادلے، مجرموں اور مشتبہ افراد کی حوالگی وغیرہ سے متعلق ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی بدھ کے روز اپنے پانچ ملکی دورے کے آخری مرحلے میں نامیبیا پہنچے۔ یہ 27 سالوں میں کسی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورۂ نامیبیا ہے اور بھارت-نامیبیا تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔