مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوتوا کے اصولوں اور بھارت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم باتیں کی ہیں۔ شیوراج نے کہا کہ ہندوتوا بھارت کی مٹی اور پانی میں بسا ہوا ہے اور یہ محض ایک مذہبی نظریہ نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جو عالمگیر محبت اور عدم تشدد (اہنسا) پر یقین رکھتی ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے یہ بھی واضح کیا کہ اہنسا کا مطلب کمزوری نہیں ہوتا۔ انہوں نے 1962 کی بھارت-چین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم صرف ‘ہندی-چینی بھائی بھائی’ کہتے رہیں اور چین آ کر ہماری زمین پر قبضہ کر لے تو یہ کمزوری کہلائے گی۔ یہ تبصرہ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دور میں مقبول اس نعرے پر تھا، جس میں بھارت اور چین کے درمیان بھائی چارے کی بات کی جاتی تھی، لیکن بعد میں چین نے بھارت پر حملہ کر دیا۔
‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کے نعرے پر شیوراج کا مؤقف
انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ میں مرکزی وزیرشیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا نعرہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ ہندوتوا کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوتوا کا مقصد صرف کسی ایک مذہب یا طبقے کے لیے نہیں بلکہ سبھی کی بھلائی کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا سب سے محبت کرتا ہے، لیکن ان لوگوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا جو ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
بھارت کی طاقت اور خود کفالت کیوں ضروری ہے؟
شیوراج سنگھ چوہان نے زور دے کر کہا کہ بھارت کو دنیا کو عدم تشدد کا سبق سکھانے کے لیے خود بھی طاقتور اور خودکفیل بننا ہوگا۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک، ایئر اسٹرائیک، اور آپریشن سندور جیسے اقدامات کی مثالیں دیں اور کہا کہ یہ بھارت کی طاقت کی علامت ہیں، اور ان اقدامات کے بغیر بھارت کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان کا واضح پیغام
سینئر بی جے پی لیڈر نے ہندوتوا کو “سرو دھرم سمبھاو” یعنی تمام مذاہب کا احترام کرنے والا نظریہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، بھارت کی ثقافت میں سبھی مذاہب کا احترام اور سب سے محبت کرنا شامل ہے، لیکن جو لوگ ملک کے خلاف سازش کرتے ہیں ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


