Bharat Express DD Free Dish

Political News

نئے ڈپٹی لیڈر اشوک کمار مِتل نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے این ڈی گپتا ڈپٹی لیڈر تھے، اس کے بعد راگھو چڈھا نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب انہیں یہ موقع دیا گیا ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ دنیا شاید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ وقت عالمی سفارتکاری کے امتحان کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات ہیں،

سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی عام طور پر اجتماعی قیادت کے ساتھ انتخابات لڑتی ہے، لیکن امت شاہ جیسے بڑے رہنما کا کسی ایک امیدوار کی نامزدگی میں ذاتی طور پر شرکت کرنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر وزیر اعظم مودی عالمی حالات پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی(سی سی ایس)  کی ایک خصوصی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم  مودی کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے چنئی پولیس نے شہر بھر میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

اجلاس میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی حکمت عملی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جنگی حالات میں عموماً خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے،  قابل ذکر بات یہ ہےکہ حکومت نے اس کے متبادل انتظامات پہلے ہی کر لیے ہیں۔

وزیراعظم نے کھیل اور قوم کی تعمیر کے لیے پیس کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ٹینس میں پیس کی کامیابیوں پر فخر ہے اور ملاقات کے دوران مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ لینڈر پیس منگل کو نئی دہلی میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن رہےہیں۔ وہ چوتھی بار 7 مئی 2024 کو رکن بنے، جس کا دورانیہ 6 مئی 2030 تک تھا۔ وزیراعلیٰ 16 مارچ 2026 کو ریاست سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور وہ چاروں ایوانوں کے رکن بننے والے سیاستدانوں میں شامل ہو گئے۔

پڈوچیری کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا:"پچھلے پانچ سالوں میں این ڈی اے حکومت نے پڈوچیری کے عوام کی توقعات پوری کی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس شاندار کارکردگی کی وجہ سے پڈوچیری کی عوام آنے والے انتخابات میں ہمیں مسلسل حمایت دیں گے۔"

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ سمندر میں ان کی سرگرمیاں موسم سے بہت متاثر ہوتی ہیں، اس لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی ان کی مدد کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے ماہی پروری کا شعبہ ترقی کر رہا ہے اور نئے تجربات کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں۔