Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع سے وزیراعظم نریندر مودی نے میزبان ملک کے موقف کا واضح طور پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت 09-10 ستمبر 2023 کو نئی دہلی کے مشہور بھارت منڈپم میں 18ویں G20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے بہت خوش ہے۔

ایک جامع قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس مقصد سے وضع کی گئی ہے کہ بھارت کی تعلیم کو بھارت میں مبنی بر شمولیت اور جامع شکل دی جا سکے جس کی جڑیں مستقبل سے مربوط ہوں اور یہ اپنے آپ میں ترقی پسند اور دور اندیشی کی حامل ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی کور امیج کو تبدیل کیاہےقومی دارالحکومت میں جی20سربراہی اجلاس کے بھارت منڈپم کےدروازے کے سامنے نٹراج مجسمہ کی تصویر کو پی ایم مودی نے اپنے ایکس کا کور فوٹو بنایا ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں میں بھارت میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا منافع 80 فیصد بڑھ کر 56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس لیے امریکی کمپنیاں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہیں اور یہاں مزید کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔

جانکاری کے مطابق بھارت 31 ڈرون خریدے گا۔ جن میں سے 15 ڈرون ہندوستانی بحریہ کو اور 8-8 آرمی اور ایئر فورس کو دیئے جائیں گے۔ MQ-9B ریپر یا پریڈیٹر ڈرون ایک بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑی ہیں۔ جسے امریکی

امریکی صدر جو بائیڈن آج شام 6:55 بجے دہلی پہنچیں گے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر جو بائیڈن شام 7.30 بجے لوک کلیان مارگ پر واقع وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے۔

وجے گوئل کے خلاف پون کھیڑا کی تنقید 9 اور 10 ستمبر کو منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس کے لیے نئی دہلی میں جی 20 لیڈران کی آمد سے قبل سامنے آئی ہے۔

بی جے پی لیڈر پرہلاد جوشی نے مزید کہا کہ ملک میں خشک سالی کی صورتحال ہے۔ اس لیے ہمارے پاس چاول نہیں ہیں۔ اس کے پیش نظر اس کی برآمد بھی روک دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے چاول کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ ہم بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سمیت دیگر ریاستوں کو پانچ کلو سے زیادہ چاول فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

ASEAN Summit: وزیراعظم نریندر مودی جمعرات (7 ستمبر) کو آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے انڈونیشیا پہنچ گئے۔ راجدھانی جکارتہ میں، پی ایم مودی کا رٹز کارلٹن ہوٹل میں این آرآئی ہندوستانیوں نے گرمجوشی سے والہانہ استقبال کیا۔

وائس آف گلوبل ساؤتھ سربراہ کانفرنس، جس میں 125 ممالک نے شرکت کی تھی، ہماری صدارت کے تحت ہونے والے اولین اقدامات میں سے ایک تھا۔ عالم جنوب سے نتائج اور نظریات اکٹھا کرنے کے لیے، یہ ایک اہم مشق تھی۔