Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم مودی اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے کے تحت مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شام آکلینڈ پہنچے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس سے دونوں ممالک کی جانب سے اس دورے کو دی جانے والی اہمیت کا اظہار ہوا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آکلینڈ میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے 30 سال پرانا مفلر دکھایا اور بھارت-نیوزی لینڈ تعلقات کو نئی سمت دینے کی بات کی۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت روس سے خام تیل، قدرتی گیس، یورینیم اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے ممالک کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیا اور خدمات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ بل 2025 کے "سینکشننگ رشیا ایکٹ" کو مزید سخت بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

سیاحت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی انتظام پر دستخط کیے اور فضائی کمپنیوں سے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان براہ راست نان اسٹاپ پروازیں شروع کرنے کی اپیل کی۔ زراعت، باغبانی، جنگلات، مویشی پالنے اور ڈیری کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

وزیر اعظم مودی جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق آکلینڈ پہنچے تھے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس استقبال کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ پہنچنے کے فوراً بعد وزیر اعظم مودی نے بھارتی برادری سے ملاقات کی۔

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے الزام لگایا کہ حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی مالی بے ضابطگی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلوی یورینیم کی برآمد، خلائی تعاون، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ہند-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

صدر لی جے میونگ نے رواں سال 19 سے 21 اپریل کے درمیان بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا بھارت دورہ تھا، جبکہ کسی بھی جنوبی کوریائی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اتنی جلدی بھارت آنے کا بھی یہ پہلا موقع تھا۔