Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

گھریلو دفاعی صنعت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیتے ہوئے ہندوستان اور انڈونیشیا نے اس ماہ کے اوائل میں انڈونیشیائی فوج کو برہموس میزائلوں کی فراہمی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ انڈونیشیا ہندوستان میں تیار کردہ استرا ایئر ٹو ایئر میزائل بھی خریدے گا۔ دونوں ممالک نے بحری سلامتی اور تحفظ کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک کو بھی حتمی شکل دی ہے۔

وزیراعظم مودی نے 136ویں ’من کی بات‘ پروگرام کے دوران کہا، ’’حالیہ دنوں میں ہمارے نوجوانوں نے کھیلوں میں کئی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پی وی سندھو بیڈمنٹن میں جاپان اوپن کا خطاب جیتنے والی پہلی ہندوستانی بن گئی ہیں۔ پوری قوم کو ان کی کامیابی پر فخر ہے۔‘‘

جاپان اوپن 2026 جیتنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کے بعد پی وی سندھو نے سوشل میڈیا پر اظہارِ تشکر کیا، جانیے انہوں نے کیا کہا اور یہ فتح تاریخی کیوں ہے۔

لارڈز میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں بھارتی ٹیم نے پہلی اننگز میں 285 رنز بنائے۔ اس کے جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم صرف 170 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ دوسری اننگز میں بھارت نے سات وکٹوں کے نقصان پر 341 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کی اور میزبان ٹیم کو جیت کے لیے 457 رنز کا مشکل ہدف دیا۔ ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 186 رنز پر سمٹ گئی اور بھارت نے 270 رنز کے بھاری فرق سے تاریخی فتح اپنے نام کرلی۔

وزیر اعظم کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جہاں لاکھوں افراد نے بھارتی فوج کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سلام کیا۔واضح رہے کہ 1999 میں مئی سے جولائی کے درمیان جموں و کشمیر کے کارگل اور دراس سیکٹر کی بلند برفانی چوٹیوں پر پاکستانی دراندازوں نے خفیہ طور پر قبضہ کر لیا تھا۔

’’من کی بات‘‘ پروگرام کا آغاز سال 2014 میں ہوا تھا اور گزشتہ برسوں کے دوران یہ عوام اور وزیر اعظم کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وزیر اعظم مودی مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے عام شہریوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں

وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 2029 کے انتخابات کے بعد ملک کو تقریباً 42 یا 45 سال عمر کا نوجوان وزیراعظم ملے، نہ کہ 80 سال کا شخص۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی سوچ اور نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اتر پردیش کے محکمۂ مال کی اس مبینہ فہرست پر بھی سوال اٹھایا۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جھنڈو کمار کی یہ کامیابی ان کی غیر معمولی جسمانی طاقت، فولادی عزم اور برسوں کی منظم اور مسلسل محنت کا بہترین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے نہ صرف ملک کا وقار بلند ہوا ہے بلکہ لاکھوں بھارتی نوجوانوں کو بھی حوصلہ اور تحریک ملی ہے۔ہیوی ویٹ زمرے کے اس سخت مقابلے میں جھنڈو کمار کا سامنا دنیا کے نامور پیرا پاور لفٹرز سے تھا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ "دھرمیندر پردھان اب صرف ایک وزیر نہیں رہے بلکہ وہ تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کی علامت بن چکے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان اور طلبہ ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں انہی کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے طلبہ کے دیگر دو مطالبات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھی کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔