نئی دہلی: کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی منگل کو نئی دہلی کے لیے روانہ ہوگئے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے علاقائی تعاون، سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بہتر رابطہ کاری سمیت اہم امور پر بھارت کا موقف واضح کیا۔ وزیر اعظم مودی نے ایس سی او ممالک کے سربراہان کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے کرغز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کا شکریہ ادا کیا اور ان کی میزبانی اور گرمجوشی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونا صرف ایک اہم سنگ میل نہیں بلکہ مستقبل کی سمت طے کرنے کا بھی مناسب وقت ہے۔
اگلے 25 برس کے لیے واضح روڈ میپ ضروری
وزیر اعظم نے کہا کہ ایس سی او نے بات چیت اور تعاون کی مضبوط روایت قائم کی ہے، تاہم اب تنظیم کے اگلے 25 برس کے لیے واضح روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارت نے سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع سے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کیا تھا۔ مودی کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ رکن ممالک ان تینوں شعبوں میں مل کر ایسے اقدامات کریں جن کے نتائج زمینی سطح پر بھی نظر آئیں اور عام لوگوں کو ان کا فائدہ حاصل ہو۔
’جنگ سے نہیں، بات چیت سے نکلے گا حل‘
علاقائی تنازعات کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے بھارت کی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنازع کا مستقل حل جنگ کے میدان میں نہیں نکل سکتا۔ ان کے مطابق مشکل حالات سے آگے بڑھنے کا راستہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممالک کو اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کی مخالفت
دہشت گردی کے معاملے پر وزیر اعظم نے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کو پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے کام کرنے والے پورے نظام کے خلاف ٹھوس کارروائی ضروری ہے۔ مودی نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کسی بھی طرح کا دوہرا معیار نہیں اپنایا جانا چاہیے۔ کسی ایک ملک یا تنظیم کی دہشت گردی کو درست اور دوسرے کی دہشت گردی کو غلط قرار دینے کی پالیسی سے اس عالمی مسئلے کا حل ممکن نہیں ہوگا۔
ترقی کے لیے مضبوط رابطہ کاری ضروری
وزیر اعظم نے ایس سی او ممالک کی مشترکہ ترقی کے لیے بہتر، قابل اعتماد اور مضبوط رابطہ کاری کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایسی رابطہ کاری کے منصوبوں کی حمایت کرتا ہے جن سے منڈیاں ایک دوسرے سے جڑیں، تجارت کو فروغ ملے اور عوام و کاروباری شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے تمام منصوبوں میں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہونا چاہیے۔ بھارت طویل عرصے سے بین الاقوامی رابطہ کاری کے منصوبوں کے حوالے سے اسی موقف پر زور دیتا رہا ہے۔
کئی عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں
ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی نے مختلف ممالک کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بات چیت کی، جبکہ لاؤس کے صدر تھونگ لاؤن سیسولیتھ اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بشکیک میں ایس سی او اجلاس اور مختلف عالمی لیڈروں سے ملاقاتوں کے بعد وزیر اعظم مودی کا کرغزستان کا دورہ مکمل ہوگیا اور وہ نئی دہلی کے لیے روانہ ہوگئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
