Bharat Express DD Free Dish

Key highlights of PM’s Address in SCO Summit: دہشت گردی کے خاتمے‘ سے ’ایس سی او کی سب سے بڑے سرمایہ‘ تک، جانئے پی ایم مودی کے خطاب کی اہم باتیں

عالمی پلیٹ فارم سے پی ایم مودی نے تعاون کو ’گورنمنٹ ڈرِون‘ کے بجائے ’پیپل ڈرِون‘ بنانے پر زور دیا۔ کرغزستان کی صدارت کے تحت ایس سی او میں نوجوانوں کی شمولیت پر توجہ دینے کی تعریف کرتے ہوئے پی ایم مودی نے بتایا کہ بھارت نے ایس سی او میں اسٹارٹ اپ فورم، ینگ آتھرز کانکلیو اور ینگ سائنٹسٹس فورم جیسے اقدامات کیے ہیں۔

بشکیک: وزیر اعظم نریندر مودی نے 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں پاکستان کو واضح پیغام دیا، وہیں دنیا کو تہذیب اور ثقافت کی اہمیت بھی بتائی۔ عالمی پلیٹ فارم سے انہوں نے بھارت کے وژن، اقدامات اور بامعنی مذاکرات کے عزم کا ذکر کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کی 10 اعلیٰ قیادتوں کی موجودگی میں وزیر اعظم مودی نے عالمی ترقی اور پیش رفت کے لیے اپنے خیالات پیش کیے۔

تعاون کو ٹھوس نتائج میں بدلنے پر زور

وزیر اعظم نے بات چیت اور تعاون کی مضبوط روایت پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ 25 برسوں کی کامیابیوں اور آنے والے 25 برسوں کے اہداف طے کرنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ 25 برسوں میں ایس سی او نے یوریشیا کے وسیع خطے میں بات چیت اور تعاون کی ایک مضبوط روایت قائم کی ہے۔ ہم نے مل کر اپنے لوگوں کی فلاح کے ساتھ ساتھ انسانیت کی ترقی میں بھی قیمتی تعاون کیا ہے۔ ان 25 برسوں میں ہم نے تعاون کی مضبوط بنیاد تیار کی ہے۔ اب آنے والے 25 برسوں میں ہمارا مقصد اس تعاون کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔‘‘

SCO کے 3 ستون: سکیورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع

پی ایم مودی کی جانب سے ایس سی او کے اصل مقصد اور مفہوم کی وضاحت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ اجلاس میں میں نے ایس سی او کے حوالے سے بھارت کی سوچ کے 3 اہم ستونوں کا ذکر کیا تھا: ایس کا مطلب سکیورٹی، سی کا مطلب کنیکٹیویٹی اور او کا مطلب مواقع ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تینوں ستونوں کو وژن سے آگے بڑھا کر ٹھوس نتائج تک لے جایا جائے اور اس کے لیے پہلی ضرورت امن اور سلامتی ہے۔‘‘

دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی ضرورت

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں پی ایم مودی نے جو بات کہی، وہ دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کی واضح سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ پی ایم مودی نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور جوابی کارروائی سے کام نہیں چلے گا، بلکہ دہشت گردی کے پورے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کی فنڈنگ، دہشت گردوں کی بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے پر تمام ممالک کو ایک آواز میں بات کرنی چاہیے اور دوہرے رویے کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

منشیات کی اسمگلنگ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ

پی ایم مودی نے منشیات کی اسمگلنگ کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ٹریفکنگ صرف ایک جرم نہیں بلکہ نوجوان نسل اور علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایس سی او کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے تحت سکیورٹی خطرات، منظم جرائم، معلوماتی سلامتی اور منشیات جیسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جا رہے مراکز ایک مثبت قدم ہیں۔

جنگ نہیں، ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی سے حل ہوں تنازعات

وزیر اعظم نے عالمی پلیٹ فارم سے ’مذاکرات‘ اور ’سفارت کاری‘ کو امن کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران نے یہ دکھایا ہے کہ کسی ایک خطے کا تنازع صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اثر پوری دنیا کی توانائی سلامتی، بحری تجارت اور سپلائی چینز پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے بھارت کا مطالبہ رہا ہے کہ تمام کشیدگی اور جنگوں کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری

پی ایم مودی نے مشترکہ ترقی کی بات کرتے ہوئے خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر زور دیا۔ عالمی پلیٹ فارم سے انہوں نے کہا کہ بھارت ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو مارکیٹس کو جوڑتی ہیں، تجارت کو آسان بناتی ہیں اور ترقی کے نئے راستے کھولتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایس سی او چارٹر کی بھی بنیادی روح ہے۔

SCO کی بڑی دولت ہمارے عوام کے باہمی تعلقات

بھارت کے وزیر اعظم نے ایس سی او کی سب سے بڑی ’دولت‘ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے تعاون کا فائدہ براہ راست ہمارے لوگوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ ہماری سب سے بڑی دولت ہمارے عوام کے درمیان باہمی تعلقات ہیں۔ بھارت کے لیے ایس سی او عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور خیالات کا سنگم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اگلے 25 برسوں میں ’پیپل ٹو پیپل کنیکٹ‘ کو ہمارے تعاون کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔

نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولنے کی وکالت کی۔ پی ایم مودی کے مطابق کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری کوششوں سے نوجوانوں کو کتنے مواقع ملتے ہیں، ہمارے کاروباری افراد کے لیے کتنی نئی مارکیٹس کھلتی ہیں، ہمارے کسانوں کو ٹیکنالوجی کا کتنا فائدہ ملتا ہے اور ہمارے شہریوں کی زندگی کتنی بہتر ہوتی ہے۔

تعاون گورنمنٹ ڈرِون نہیں، پیپل ڈرِون ہونا چاہیے

عالمی پلیٹ فارم سے پی ایم مودی نے تعاون کو ’گورنمنٹ ڈرِون‘ کے بجائے ’پیپل ڈرِون‘ بنانے پر زور دیا۔ کرغزستان کی صدارت کے تحت ایس سی او میں نوجوانوں کی شمولیت پر توجہ دینے کی تعریف کرتے ہوئے پی ایم مودی نے بتایا کہ بھارت نے ایس سی او میں اسٹارٹ اپ فورم، ینگ آتھرز کانکلیو اور ینگ سائنٹسٹس فورم جیسے اقدامات کیے ہیں۔

گزشتہ سال بھارت میں منعقدہ ایس سی او سِولائزیشنل ڈائیلاگ فورم کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس کا پہلا اجلاس اس سال بھارت میں منعقد ہوگا۔ پی ایم مودی کے مطابق رکن ممالک کی فعال شرکت سے یہ فورم ایس سی او میں بامعنی اور متحرک مذاکرات کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read