Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیراعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب نیٹ پیپر لیک معاملے پرملک بھر میں طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے، جس کے بعد حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھارتی وقت کے مطابق پیر کو اپنے عہدے کا حلف سنبھال لیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘

وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کا یہی جذبہ اور ثابت قدمی ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان ہر شعبے میں نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں اور ان کی محنت بھارت کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے ۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کی مختلف کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے قومی، بین الاقوامی اور خلائی شعبوں میں کئی اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں پر ہر بھارتی شہری کو فخر ہونا چاہیے۔ اس دوران انہوں نے نام لیے بغیر کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر بھی طنز کیا۔

بادلۂ خیال کے سیشن میں وفد نے تعلیمی قیادت، جدید تدریسی و تعلیمی طریقوں، نظامِ جانچ میں اصلاحات، جامع تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفد نے اسکول کی بہترین تعلیمی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، جبکہ ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دونوں نائب پرنسپلز نے دیے۔ وفد نے طلبہ کے اعتماد، تجسس اور مؤثر اظہارِ خیال کی بھی بھرپور ستائش کی۔

حکومت آئندہ مانسون اجلاس میں ’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کر سکتی ہے۔ اس بل کے تحت کسی تنظیم کا ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ ختم ہونے، تجدید نہ ہونے یا حکومت کی جانب سے تجدید سے انکار کی صورت میں منسوخ ہو جائے گا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت غیر ملکی عطیات اور ان سے حاصل ہونے والے اثاثوں کے عارضی اور مستقل طور پر سرکاری تحویل میں لینے، نگرانی، انتظام اور تصفیے کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی قائم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے تمام موبائل صارفین کے لیے مفت ریچارج اسکیم شروع کی گئی ہے۔ وائرل ویڈیو میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اس مبینہ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی لوگ اس دعوے کو سچ مان رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت کی ’یوا شکتی‘ عالمی سطح پر مسلسل اپنی شناخت بنا رہی ہے۔ تاشقند میں منعقدہ 58ویں بین الاقوامی کیمسٹری اولمپیاڈ میں بھارت کے چاروں طلبہ نے طلائی تمغے جیت کر بھارت کا سر فخر سے بلند کردیا۔