Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ہر بھجن نے امید ظاہر کی کہ حکومت پنجاب میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ ہر بھجن سنگھ پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور ایوانِ بالا میں مسلسل ریاست سے متعلق مسائل، خصوصاً کھیلوں کی ترقی اور نوجوانوں کی فلاح سے جڑے معاملات اٹھاتے رہے ہیں۔

جنتر منتر پر نیٹ (NEET) امتحان سے متعلق احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کرنے والی نابالغ طالبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔ شکایت کنندہ روچیکا سنگھ نے اس معاملے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر واپس لے لی ہے۔

لوک سبھا سکریٹریٹ نے منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں مارک زکربرگ سے عوامی طورپر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر مارک زکر برگ نے مقررہ مدت میں معافی نہیں مانگی توان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تعلیم، صحت اور سماجی خدمت کے میدان میں خدمات کو خراج عقیدت۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر پاٹل نے غریبوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عمر بھر کام کیا۔

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ یا تو وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں یا پھر وہ پارلیمنٹ کی توہین کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم معاملات پر حکومت کو جوابدہی سے نہیں بچنا چاہیے۔اس سے قبل بھی دن کے آغاز میں راجیہ سبھا کی کارروائی این ڈی اے اور اپوزیشن اراکین کے شدید ہنگامے کے باعث دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی،

اس سے قبل 5 جولائی کو بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اپنے پیش رو نتیش کمار سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس سے قبل مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے سوالات سے بچنے کے لیے حکومت نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے، جبکہ یہ مارچ عوامی مفاد کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے نکالا جا رہا ہے۔دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق اروند کیجریوال کے مجوزہ مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک کسی بھی مارچ کے لیے کوئی باضابطہ اجازت جاری نہیں کی گئی

بانکی پور نشست طویل عرصے تک بی جے پی اور خاص طور پر نتن نبین کے خاندان کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے اس شکست کو پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی لیڈروں، کارکنوں اور عوام کی جانب سے بھی این رنگاسوامی کو مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی رہنماؤں نے ان کی عوامی خدمات اور سادہ طرزِ زندگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک تجربہ کار اور عوام دوست سیاست دان قرار دیا۔این رنگاسوامی پڈوچیری کی سیاست کے انتہائی بااثر اور مقبول لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں ملک کے نوجوانوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ آج بھارت کے نوجوان تعلیم، کھیل، سائنس، ٹیکنالوجی، اختراعات اور اسٹارٹ اپس سمیت مختلف شعبوں میں اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل جس جذبے، عزم اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،