نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ کر بھارتیہ جن سنگھ کے لیڈر پنڈت دین دیال اپادھیائے کی 110ویں جینتی کے موقع پر منعقدہ ’بھجن کلبنگ‘ پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام کا ماحول روایتی مذہبی تقریب سے کچھ مختلف نظر آیا۔ اسٹیج پر بھجن اور کیرتن پیش کیے جا رہے تھے، جبکہ نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ’بھجن کلبنگ‘ کے انداز میں مذہبی موسیقی کو جدید طرزِ پیشکش کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پروگرام کی تصاویر اور ویڈیوز میں وزیر اعظم مودی ناظرین کی پہلی صف میں بیٹھے دکھائی دیے۔ اسٹیج پر فنکار بھکتی گیت پیش کر رہے تھے اور وزیر اعظم بھی پروگرام سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ ایک ویڈیو میں انہیں کھنجری بجاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ بھجن اور کیرتن کو جدید موسیقی اور اسٹیج پرفارمنس کے ساتھ پیش کیا گیا۔
کیا ہے ’بھجن کلبنگ‘؟
’بھجن کلبنگ‘ ان دنوں نوجوانوں اور جنریشن زیڈ کے درمیان مقبول ہونے والا ایک نیا انداز ہے۔ اس میں بھجن، کیرتن اور دیگر مذہبی گیتوں کو روایتی انداز سے ہٹ کر جدید موسیقی اور کنسرٹ جیسے ماحول میں پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی مذہبی موسیقی اور بھجن وہی رہتے ہیں، لیکن ان کی پیشکش کا انداز آج کی نوجوان نسل کی پسند کے مطابق تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
دین دیال اپادھیائے کے ’انتودیہ‘ کے نظریے کو یاد کیا
اس پروگرام سے قبل وزیر اعظم مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر انہیں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ وزیر اعظم دفتر کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق، مودی نے دین دیال اپادھیائے کے ’انتودیہ‘ کے نظریے کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی آخری صف میں کھڑے شخص کی ترقی اور فلاح کو یقینی بنانا ہی قوم کی تعمیر کی بنیاد ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی دین دیال اپادھیائے کو یاد کرتے ہوئے ان کے نظریات اور سماجی ذمہ داریوں کو اپنانے کی بات کہی۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے نظریات کو اپنی زندگی میں اپنائیں اور معاشرے و ملک کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا عزم کریں۔
سنسکرت سبھاشیت کے ذریعے مسلسل کوشش کا پیغام
وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر ایک سنسکرت سبھاشیت بھی شیئر کیا، جس میں مسلسل کوشش، حوصلے اور کسی تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس پیغام کا بنیادی مفہوم یہ تھا کہ کامیابی اور نئے کام صرف قسمت کے سہارے حاصل نہیں ہوتے، بلکہ مسلسل کوشش، محنت اور مضبوط عزم کے ذریعے اپنے مقصد کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
کون تھے پنڈت دین دیال اپادھیائے؟
پنڈت دین دیال اپادھیائے کی پیدائش 25 ستمبر 1916 کو ہوئی تھی۔ وہ بھارتیہ جن سنگھ کے اہم لیڈروں میں شامل تھے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ مفکر کے طور پر بھی ان کی شناخت رہی۔ بھارتی سیاست اور نظریاتی میدان میں دین دیال اپادھیائے کا اہم مقام رہا ہے۔ انہوں نے تحریر اور صحافت کے ذریعے بھی اپنے خیالات لوگوں تک پہنچائے۔ 1940 کی دہائی میں انہوں نے ’راشٹر دھرم‘ کے نام سے ایک ماہانہ اشاعت شروع کی تھی۔ ان کے سیاسی اور سماجی نظریات میں معاشرے کے آخری فرد تک ترقی اور فلاح کے فوائد پہنچانے پر خاص زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ان کا ’انتودیہ‘ کا نظریہ آج بھی سیاسی اور سماجی مباحث میں زیرِ بحث رہتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی اپنی خراجِ عقیدت میں اسی نظریے کو نمایاں کرتے ہوئے اسے عوامی فلاح کے لیے تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

