Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم نے کیلاش مانسروور اور امرناتھ یاترا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے کے بعد، کیلاش مانسروور یاترا دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ کیلاش مانسروور کا مطلب بھگوان شیو کا ٹھکانہ ہے۔ ہر روایت میں چاہے وہ ہندو ہوں، بدھ مت ہوں یا جین، کیلاش کو شردھا اور بھکتی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

اس سال 106 ممالک کی 8,000 یونیورسٹیوں میں سے 1,501 ادارے اس عالمی درجہ بندی میں شامل ہوئے، جن میں بھارت کے 54 تعلیمی ادارے شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے لوگوں کو یاد دلایا کہ 10 سال قبل جب بین الاقوامی یوگا ڈے کا آغاز ہوا تھا تو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دن عالمی شعور اور انسانی فلاح کا اتنا موثر ذریعہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہر سال یہ تقریب مزید شاندار ہوتی جا رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یوگا اب طرز زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس بار ہم نے یوگا ڈے کی بہت دلکش تصاویر دیکھی ہیں۔‘‘

پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر ہم وطنوں نے اس دور کے ظلم کو یاد کرنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے چوکس رہنے کے لیے ’سمویدھان ہتیہ دیوس‘ منایا۔ انہوں نے ان تمام ہیروز کو یاد کرنے پر زور دیا جنہوں نے ایمرجنسی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور آئین کو مضبوط رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

پی ایم مودی نے ان کی قائدانہ صلاحیت اور دانشمندی کی تعریف کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا اپنے جذبات کا اظہار۔

وزیر اعظم نریندر مودی آچاریہ ودیانند جی مہاراج کی صد سالہ تقریب میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہیں 'دھرم چکرورتی' کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

ایران میں کشیدہ حالات کے باعث طلبا شدید خوف اور ذہنی دباؤ میں مبتلا تھے، خاص طور پر تہران، شیراز، اصفہان، قم، تبریز، یزد اور اہواز جیسے شہروں میں پھنسے طلبا کے اہل خانہ دن رات پریشان رہے۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بھارت کو اب ایک قابلِ اعتماد اور متوازن عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی کی قیادت میں بھارت نے سفارت کاری، سلامتی اور ترقی کے شعبوں میں توازن قائم کیا ہے اور عالمی پلیٹ فارم پر اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم مودی مسلسل 11 سال اقتدار میں ہیں اور اب اپنے 12ویں سال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اتنے طویل عرصے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، بلکہ وہ عالمی سطح پر مزید مضبوط ہو کر ابھرے ہیں۔

پی ایم مودی کا نو دن کا سب سے طویل دورہ 2015 میں تھا جب انہوں نے فرانس، جرمنی اور کینیڈا کا دورہ کیا تھا اور 2014 میں انہوں نے میانمار، آسٹریلیا اور فجی کا 9 دن کا طویل دورہ کیا تھا۔