Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایک بڑی اور اچھی شراکت داری ہونے والی ہے۔ اس پر بھارتی حکومت نے بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ شراکت داری ضرور کرے گا، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہوں گی۔

وزیر اعظم 5 سے 8 جولائی تک برازیل میں ہوں گے جہاں وہ ریو ڈی جنیرو میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پریش راول نے پی ایم مودی کا موازہ سردار ولبھ بھائی پٹیل سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ مودی جی میں سردار پٹیل جیسی بہت سی خوبیاں ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو وزیر اعظم نیشنل ریلیف فنڈ (PMNRF) سے 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50,000 روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہول دِوس ہمیں ہمارے قبائلی معاشرے کی بے مثال ہمت اور حیرت انگیز بہادری کی یاد دلاتا ہے۔‘‘

نرملا سیتا رمن نے کہا کہ یہ نریندر مودی حکومت کی 11 سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ حکومت جی ایس ٹی (گڈس اینڈ سروسز ٹیکس) اور انکم ٹیکس کو مزید آسان بنانا چاہتی ہے۔

گیتا آج کے دور کا بہترین تحفہ ہے۔ اسی لیے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے کئی ممالک کے قومی صدور کو اپنے یہاں یا وہاں جاتے وقت بھگوت گیتا پیش کی اور واضح طور پر کہہ دیا کہ ہندوستان کی طرف سے میرے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی اور تحفہ نہیں ہے اور دنیا کے پاس گیتا سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ میں آپ سب سے یہ بھی اپیل کروں گا کہ ایری سلک سے بنے کپڑوں کو ضرور ٹرائی کریں، اور ہاں، کھادی، ہینڈلوم ہینڈی کرافٹ، ووکل فور لوکل کو بھی آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔ اگر گاہک صرف ہندوستان میں بنی ہوئی مصنوعات خریدتے ہیں اور تاجر صرف ہندوستان میں بنی ہوئی مصنوعات فروخت کرتے ہیں، تو ’آتمنربھر بھارت ابھیان‘ کو نئی توانائی ملے گی۔

آپریشن سندور کے لیے ان کے گانے کے بارے میں پوچھے جانے پر کیلاش کھیر نے کہا کہ انھوں نے وہ گانا ہندوستان کی مسلح افواج کی ہمت اور بہادری کا جشن منانے کے لیے بنایا تھا۔

وزیر اعظم نے کرناٹک میں کلبرگی کی خواتین کی بھی تعریف کی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ کلبورگی کی خواتین نے جوار کی روٹی کو ایک برانڈ کی شکل دی۔ انہوں نے ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنائی ہے، جس میں روزانہ تین ہزار سے زیادہ جوار کی روٹیاں بن رہی ہیں۔ ان روٹیوں کی خوشبو اب نہ صرف دیہاتوں میں بلکہ بنگلورو جیسے میٹرو میں بھی پھیل رہی ہے۔