گھانا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور ارجنٹائن کے دورے کے بعد اب وزیر اعظم نریندر مودی برازیل کے دورے پر ہیں۔ ہندوستانی اور مقامی لوگ وزیر اعظم کے دورۂ برازیل کو لے کر پرجوش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی کی توانائی اور ہندوستان اور مقامی لوگوں کے درمیان رابطہ بہت ہی مضبوط ہے۔ پی ایم مودی کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مقامی باشندے نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ یہ نہایت اہم موقع ہے۔
مقامی لوگوں نے شیئر کیے اپنے تجربات
پی ایم مودی کے سامنے پرفارم کرنے والوں نے کہا کہ یہ پروگرام ہندوستان کے لیے اظہار تشکر کا ایک بہترین موقع تھا۔ وزیر اعظم بہت متاثر ہوئے اور ہم نے ان کے سامنے شیو تانڈو استوتر اور کچھ دوسرے منتر بھی پڑھے، جس میں کچھ مقامی لوگ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ یہ ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔
برازیل کے مقامی کین لن نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’یہ ایک بہت ہی خاص تجربہ تھا۔ وزیر اعظم کی توانائی، موجودگی اور ہمدردی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ میں نے ان سے بات نہیں کی، لیکن ان کی آنکھوں میں دیکھنے کا لمحہ بہت خاص تھا۔۔‘‘ وہیں جینیفر شولس مہیشوری نے کہا کہ ’’میں تقریباً 10 سال سے آچاریہ ڈونس میسی کے ساتھ ویدانت کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا، خاص طور پر دوسری بار ان کے سامنے پرفارم کرنا۔ ہم نے وہ منتر پڑھے جو ہم روزانہ پڑھتے ہیں۔ ویدانت کے مطالعہ نے میری زندگی کو بہت سے طریقوں سے بدل دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہندوستان کے نوجوان بھی اس ویدک روایت کی قدر کریں گے اور اپنی زندگیوں میں اس کے اثرات کو محسوس کریں گے۔‘‘
ایک اور برازیلی شہری پاؤلا نے بتایا کہ یہ ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اس ثقافت اور روایت نے میری زندگی کو بہت بدل دیا ہے اور میں نے اس کے بہت سے فوائد دیکھے ہیں۔ پی ایم مودی کی موجودگی میں منتر پڑھنا اور اتنے سالوں سے پڑھی ہوئی چیزوں کو پیش کرنا بہت جذباتی لمحہ تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

