وزیرِ اعظم نریندر مودی پیر کو 17ویں BRICS سربراہی اجلاس میں BRICS رکن ممالک، شراکت دار ممالک اور دیگر مہمان لیڈران کے ساتھ ایک ’’فیملی فوٹو‘‘ میں شریک ہوئے۔ یہ اجلاس 6 سے 7 جولائی تک برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ کے ساتھ ساتھ نئے رکن ممالک مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے لیڈران بھی شریک ہوئے۔
اس سے قبل وزیراعظم مودی نے برکس سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں ’’عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور امن و سلامتی‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل اور ٹیکنالوجی کی رسائی میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بیسویں صدی کے ادارے، اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے عالمی اداروں میں فوری اصلاحات پر دیا زور
وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور WTO جیسے اداروں میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایک کثیرجہتی اور جامع عالمی نظام کی ضرور ت ہے۔‘‘ اس دوران وزیر اعظم مودی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’’یہ صرف بھارت پر نہیں، بلکہ انسانیت پر حملہ تھا۔ دہشت گردوں کو پناہ، مالی مدد یا فروغ دینے والوں سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ دہرا معیار اب ناقابلِ قبول ہے۔‘‘ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’BRICS کو دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی اپنانی چاہیے۔‘‘
دریں اثنا ’’کثیرجہتی نظام، معیشت اور مصنوعی ذہانت‘‘ سے متعلق سیشن میں پی ایم مودی نے BRICS کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے چار تجاویز پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’BRICS ترقیاتی بینک کو دیرپا اور طلب پر مبنی منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔ سائنس اور تحقیق کا مرکز قائم کیا جائے جو عالمی جنوب کے لیے سودمند ہو۔ اہم معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس کی نگرانی کے ساتھ جدت پر بھی توجہ دی جائے۔‘‘ اجلاس کے اختتام پر ’ریو ڈی جنیرو اعلامیہ‘ منظور کیا گیا، جس میں عالمی اداروں کی اصلاحات، پائیدار ترقی اور دہشت گردی کے خلاف متحدہ موقف کی توثیق کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



