Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نہ صرف تینوں افواج کے سربراہان بلکہ مختلف وزارتوں کے سیکریٹری، انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف کے افسران اور دیگر سینئر دفاعی عہدیداران بھی شریک ہوں گے۔

تاجروں میں آگاہی مہم کی تیاری، ہررکن پارلیمنٹ کو 20 سے 30 تجارتی کانفرنسیں منعقد کرنے اور دیوالی و نوراتری پر ’سودیشی میلے‘ لگانے کی ہدایت

وزیر اعظم کا یہ دورہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کی براہِ راست نگرانی کے مقصد سے کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

یہ مہم نہ صرف خواتین و بچوں کی صحت کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے بلکہ ایک صحت مند اور بااختیار معاشرے کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

اتوار کو گورنر نے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایک بند کمرے میں ملاقات کی، جس سے ریاست میں حکومت سازی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئیں۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا: مرکزی وزیر گری راج سنگھ کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ پی ایم مودی کی قیادت میں آپ بُنکروں اور ہتھ کرگھا کاروباریوں کے لیے قابلِ تعریف کام کر رہے ہیں۔ خدا سے آپ کی صحت مند اور لمبی زندگی کی دعا کرتا ہوں۔

پی ایم مودی نے لکھا: آسام کی ثقافت کو عالمی پہچان دلانے والے بھارت رتن ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا کو ان کی یوم پیدائش پر میرا نمن۔ بھارتی ثقافت اور موسیقی کے شعبے میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش رہیں گی۔

بھوپین دا نے ہمیں جو کچھ دیا، وہ صرف موسیقی نہیں تھا — ان کے گیت جذبات سے لبریز تھے، راگوں سے آگے کی بات کرتے تھے۔ وہ محض ایک گلوکار نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ کئی نسلیں ان کے گیتوں کو سن کر بڑی ہوئیں، جن کے ہر لفظ میں رحم، سماجی انصاف، اتحاد اور تعلق کا جذبہ موجود تھا۔

پی ایم مودی نے راجگیر میں اس شاندار ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے بہار حکومت اور وہاں کے عوام کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا: میں بہار حکومت اور عوام کی بھی ستائش کرنا چاہتا ہوں جن کی کوششوں سے راجگیر اس شاندار ایونٹ کی میزبانی کر سکا اور ایک فعال کھیلوں کے مرکز کے طور پر ابھرا۔

سری نارائن گرو (20 اگست 1856 – 20 ستمبر 1928) کیرالا کے ایک سنت، فلسفی، روحانی رہنما اور سماجی مصلح تھے۔ انہوں نے تعلیم، صفائی، خدا سے عقیدت، تنظیم، اور زراعت کو فروغ دیا۔ وہ صنعتوں کو معاشی خود مختاری کا ذریعہ سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ درست مہارت، محنت، علم، تعلیم اور صاف ستھری زندگی کے ذریعے لوگ خوداعتماد، خوددار، نڈر اور اخلاقی و مالی طور پر مضبوط بن سکتے ہیں۔