Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

برکس سربراہی اجلاس 2026 میں 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے لیڈروں کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔شی جن پنگ ہفتہ کی دوپہر نئی دہلی پہنچے تھے اور انہوں نے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔

18ویں برکس سربراہی اجلاس کے پہلے دن ہفتہ کو وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں برکس ممالک کے سربراہانِ مملکت، وفود اور خصوصی مہمانوں کے اعزاز میں شاندار گالا ڈنر کا اہتمام کیا۔

ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر نے ہفتے کو بتایا کہ ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ 17 ستمبر سے شروع ہو کر 17 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ بنگلورو واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر ’جگن ناتھ بھون‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیندر نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کی درخواست پر اس مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کی طویل عوامی زندگی اور مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہفتہ کی شام ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہونے کی توقع ہے۔ اس دوران چین کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس نے اپنے قیام کے 20 برس مکمل کر لیے ہیں اور اب یہ تنظیم ’پختگی کے دور‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگلی دو دہائیوں کے لیے ایک نیا اور پرعزم ایجنڈا تیار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

نئی دہلی میں جاری برکس سربراہ اجلاس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ دارالحکومت میں غیر ملکی لیڈروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی متعدد اہم دو طرفہ ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔

برکس کے اندر روس-یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کا تنازع اور عالمی سلامتی جیسے کئی اہم مسائل ہیں، جن پر تمام رکن ممالک کی سوچ یکساں نہیں ہے۔ مذاکرات کے دوران ان امور پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ہندوستان نے صدر ملک کی حیثیت سے مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رکھی اور مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

سورو داس نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی دکھائی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے، ’’آپ کا مواد بلاک کر دیا گیا ہے۔‘‘ سورو داس کے مطابق 10 ستمبر کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے ان کے مواد کو بلاک کیا گیا ہے۔

شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کے کردار کو لے کر مغربی ایشیا کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔برکس سربراہی اجلاس نے ہندوستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو آمنے سامنے بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔