Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

یہ ثقافتی رسائی کی بنیاد 2019 میں بشکیک، کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں رکھی گئی تھی۔

وزیراعظم بننے سے قبل بطور وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی نے امبیڈکر کے پیغام کو عملی اقدامات کے ذریعے مضبوط کیا۔ سماجی انصاف اور ایمپاورمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت تعلیم، رہائش، صفائی اور معاشی توانائی کے لیے سو سے زائد فلاحی اسکیمیں شروع کی گئیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر بابا صاحب امبیڈکر کی دوراندیش سوچ، انصاف و مساوات کے لیے ان کی غیرمتزلزل جدوجہد، اور آئینی اقدار نے بھارت کی ترقی کے سفر کو نئی سمت عطا کی ہے۔

سب سے پہلے، زعفرانی پنرو رول تھا، پنر۔ اور خشک مو ہ جات کا ایک رول جسے زعفران سے بھری ہوئی گریوی مںپ پشر کاڈ گیا۔ یہ ڈش ذائقہ اور خوشبو دونوں مںف غری معمولی تھی۔

یہ تمام تحائف نہ صرف بھارت کی مختلف ریاستوں کے فن، ذائقے، تاریخ اور دستکاری کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور آپسی احترام کی علامت بھی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے بھارت کے دورے پر آئے روسی صدر ولادیمیر پوتن کا شاندار استقبال کیا اور انہیں بھگوت گیتا کا روسی ایڈیشن تحفے میں دیا۔ پی ایم مودی نے اس ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ولادیمیر پوتن کو گیتا کا روسی ایڈیشن پیش کیا۔ گیتا کی تعلیمات دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔

کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے روسی صدر پوتن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، لیکن وقت نہ ملنے پر کانگریس نے پروٹوکول توڑے جانے کا الزام لگایا۔ بی جے پی نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ راہل نے خود صدر کے عشائیے سے بائیکاٹ کیا تھا۔

روس کے پہلے نائب وزیراعظم ڈینس مَنتوروو نئی دہلی میں صدر پوتن کے وفد کے ساتھ پہنچ چکے ہیں اور اپنے دورے سے قبل روسی میڈیا ہاؤس سپوتنک انڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بھارت کے ساتھ فضائی اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن دوروزہ دورے پربھارت پہنچ گئے ہیں۔ دہلی کے پالم ہوائی اڈے پروزیراعظم نریندرمودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس درمیان سوشل میڈیا پر 2001 کی ایک پرانی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جو دونوں لیڈروں کے تقریباً 25 سالہ تعلقات کو واضح طور پر اجاگر کرتی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھارت کے تاریخی دورے سے قبل ایک نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وہ یادگار لمحہ تازہ کیا جس نے دنیا کے سامنے بھارت اور روس کے دیرینہ تعلقات کو ایک نئے، زیادہ انسانی اور جذباتی انداز میں پیش کر دیا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور پوتن اچانک ایک ہی کار میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے تھے۔