مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے آنندپور علاقے میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس دلخراش سانحے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کولکتہ کے آنندپور میں پیش آنے والا حالیہ آتشزدگی کا واقعہ انتہائی دردناک ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن خاندانوں نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان کے ساتھ حکومت کی مکمل ہمدردی ہے۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
The recent fire mishap in Anandapur, West Bengal is very tragic and saddening. My condolences to those who have lost their loved ones. I pray that those injured recover at the earliest.
An ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased. The…
— PMO India (@PMOIndia) January 30, 2026
پی ایم او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم قومی راحت فنڈ سے ہر جاں بحق شخص کے اہلِ خانہ کو دو، دو لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائے گی، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو پچاس ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو فوری راحت پہنچانا ہے۔ ریاستی انتظامیہ کے مطابق آنندپور آتشزدگی میں ایک اور شخص کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 تک جا پہنچی ہے۔ ریاستی آفاتِ انتظامی محکمے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل تلاش اور بچاؤ کا کام انجام دے رہی ہیں۔
اس معاملے پر قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے پر جلد از جلد تفصیلی کارروائی رپورٹ جمع کرائیں۔ این ایچ آر سی نے آنندپور میں واقع واؤ مومو فیکٹری سے جڑے مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شکایت کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔
یہ المناک حادثہ 26 جنوری کی صبح پیش آیا تھا، جب آنندپور کے ایک گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت گودام کے اندر کئی مزدور سو رہے تھے، جو آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ ریاستی فائر سروس اور فارنسک ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ واؤ مومو فیکٹری سے نہیں بلکہ قریب واقع پُشپانجلی ڈیکوریٹر کے گودام سے لگی تھی۔ تاہم واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے پُشپانجلی گودام کے مالک گنگادھر داس نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ سب سے پہلے مومو فیکٹری میں لگی تھی اور وہاں سے پھیلی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ جانچ کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
