Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں کے دوران ملک میں مجموعی طور پر مچھلی کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، لیکن مغربی بنگال میں اس کے برعکس کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی ناکامیاں ہیں، جنہوں نے اس اہم شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔

یہ اسکیم چار زمروں میں تقسیم کی گئی ہے تاکہ مختلف سطح کے کاروباری افراد کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ ان میں شیشو کے تحت پچاس ہزار تک کے قرضوں کی فراہمی، کشور کے تحت پچاس ہزار سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے تک قرضوں کو کور کرنا، ترون کے تحت 5 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کو کور کرنا، ترون پلس کے تحت 10 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس ریلی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جس میں جلسہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ان کی آمد سے پہلے ہی بڑی تعداد میں جمع ہو چکے تھے اور پورا میدان نعروں اور جوش سے گونج رہا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بیر بھوم کے عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگال کا مزاج کس سمت میں جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور 4 مئی کے بعد بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ پورا ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ٹی ایم سی کی پالیسیوں نے مغربی بنگال کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کی ترقی کے لیے موجودہ حکومت سے نجات ضروری ہے۔

حکومت نے خواتین ریزرویشن بل پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جو ملک میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔