Bharat Express DD Free Dish

UAE New Oil Pipeline: ہرمز بحران کے بیچ یو اے ای کا بڑا فیصلہ، نئی آئل پائپ لائن سے دنیا تک پہنچے گا تیل، مودی دورے کے دوران تیز ہوئی تیاری

ایران اور یو اے ای کے درمیان بڑھتے تناؤ نے بھی اس منصوبے کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جنگی صورتحال کے دوران ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے بحران کے درمیان متحدہ عرب امارات نے تیل سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے یو اے ای پہنچتے ہی ابوظہبی نے ہرمز آبنائے کو بائی پاس کرنے والی نئی آئل پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کو عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق نئی پائپ لائن فجیرہ کے راستے تعمیر کی جائے گی، جو ابو ظہبی سے تیل کو براہ راست خلیج عمان تک پہنچائے گی۔ اس کے بعد آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل کی سپلائی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای حکومت چاہتی ہے کہ یہ پائپ لائن 2027 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد فجیرہ کے ذریعے یو اے ای کی تیل برآمدی صلاحیت تقریباً دوگنی ہو جائے گی، جس سے دنیا کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

اطلاعات کے مطابق اس منصوبے پر اس وقت خاص غور کیا گیا جب وزیر اعظم نریندر مودی سرکاری دورے پر یو اے ای پہنچے تھے۔ اسی دوران ولی عہد خالد بن محمد بن زاید النہیان نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کی ایک اہم میٹنگ میں اس منصوبے کا جائزہ لیا۔اس سے لے یو اے ای نے سامان کی سپلائی کے لیے متبادل زمینی راستوں کا بھی استعمال شروع کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق روزانہ تقریباً 3500 ٹرکوں کے ذریعے سامان پہلے عمان پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے سعودی عرب کی بندرگاہوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔

ایران اور یو اے ای کے درمیان بڑھتے تناؤ نے بھی اس منصوبے کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جنگی صورتحال کے دوران ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای اب متبادل راستوں کے ذریعے اپنی توانائی برآمدات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپنے دورۂ یو اے ای کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مودی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس اہم بحری راستے کا کھلا رہنا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔واضح رہے کہ 6 مارچ 2026 سے آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی ہے اور کئی جہاز ایران کی اجازت کے بعد ہی گزر رہے ہیں۔ ایسے میں یو اے ای کی نئی پائپ لائن کو عالمی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read