PM Bengal Rally: بنگال میں انتخابی ریلیوں کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ’جھال موڑی‘ سے اٹھایا لطف، مقامی لوگوں میں بھی کیا تقسیم
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بی جے پی خواتین کو حقوق، تحفظ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ٹی ایم سی نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن کی مخالفت کی۔ انہوں نے بنگال کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں اور آئندہ انتخابات میں ٹی ایم سی کو جواب دیں۔
Tamil Nadu Firecracker Factory Blast: تمل ناڈو کے ویرودھونگر میں پٹاخہ فیکٹری میں زبردست دھماکہ، 19 مزدور ہلاک، متعدد زخمی، وزیر اعظم مودی نے حادثے پر کیا دکھ کا اظہار
تمل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والے ہولناک دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا۔ اس افسوسناک حادثے میں کم از کم 19 مزدوروں کی جان چلی گئی، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثے پر وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وہیں وزیر اعظم مودی نے بھی اس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
PM Modi Jhargram Rally: ”نہ پڑھائی، نہ کمائی اور نہ دوائی“، ٹی ایم سی کو اب جانا ہی ہوگا… بنگال میں وزیر اعظم مودی کی ترنمول کانگریس حکومت پر سخت حملہ
وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز جھارگرام میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں ”نہ پڑھائی ہے، نہ کمائی ہے اور نہ دوائی ہے“، اس لیے اب ٹی ایم سی کو جانا ہی ہوگا۔
West Bengal election 2026:” اپریل29 سے پہلے سرنڈر کر لو، 4 مئی کے بعد کوئی نہیں بچے گا” — بشنوپور ریلی میں وزیراعظم مودی کا ٹی ایم سی پر سخت حملہ
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ بنگال میں بنگالی نئے سال کے بعد پہلی بار کسی بڑی عوامی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں، اور یہ موقع اکشے ترتیہ کے دن آیا ہے، جسے انہوں نے ایک مبارک موقع قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ریلیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،
Bengal Assembly elections: ’’موجودہ انتخابات ریاست کی شناخت اور وراثت کو بچانے کی لڑائی‘‘ جھارگرام انتخابی ریلی سے وزیراعظم مودی کا خطاب
نریندر مودی نے کہا کہ عوام نے ٹی ایم سی حکومت کو 15 سال دیے، جو ایک طویل مدت ہے، مگر اس دوران عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ قبائلی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں ’’نہ پڑھائی، نہ کمائی، نہ دوائی اور نہ ہی سینچائی‘‘ کی صورتحال ہے اور ہر شعبہ بدحال ہے۔
PM Modi Address Violated Model Code Of Conduct: وزیر اعظم مودی کے خطاب پر تنازعہ: سی پی آئی رکن پارلیمنٹ کی الیکشن کمیشن سے شکایت، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام
سی پی آئی لیڈر نے اپنے خط میں مزید کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب بنیادی طور پر سیاسی پیغام پر مبنی تھا، جسے سرکاری پلیٹ فارمز کے ذریعے نشر کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری نشریاتی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فنڈ سے چلنے والے ان پلیٹ فارمز کا استعمال کسی ایک سیاسی جماعت یا لیڈر کے مفاد میں نہیں ہونا چاہیے۔
PM Modi at Purulia rally: ’’آدیواسی زمینوں پر ٹی ایم سی سنڈیکیٹ کا قبضہ‘‘ وزیراعظم مودی کا ممتا حکومت پر بڑا الزام، بھاری اکثریت سے حکومت بنانے کا دعویٰ
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔
Women’s Reservation Bill: خواتین ریزرویشن کی مخالفت کا سوال ہی نہیں، وزیر اعظم مودی کے خطاب پر ممتا بنرجی کا سخت ردعمل، کہا یہ انتہائی افسوسناک
ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس دہائیوں سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی، لیکن وہ ایسے معاملات پر کسی سے لیکچر سننے کو تیار نہیں جنہیں حکمراں جماعت نہ سمجھتی ہے اور نہ ہی ان کا احترام کرتی ہے۔
PM Modi Pawan Kalyan Call: وزیر اعظم نریندر مودی نے آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ سے فون سے کی بات،کہا- پون کلیان ایک دلیر اور حوصلہ مند شخص ہیں
اس موقع پر پون کلیان نے وزیر اعظم مودی کے اس ذاتی فون کال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے صحت کے بارے میں تشویش اور نیک تمنائیں ان کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔
Women Reservation Bill: یہ ترمیم گزشتہ 40 برس سے زیر التوا خواتین کے حقوق کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کرنے کی ایک اہم کوشش تھی :وزیر اعظم نریندر مودی
حکومت نے اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جنوبی ریاستوں یا چھوٹی ریاستوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق جنوبی ریاستوں کی نمائندگی موجودہ 23.76 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 23.87 فیصد ہو جاتی۔





