Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم  مودی کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال "غیر آئینی" اور "انتہائی افسوسناک" ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کو ملک کی عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہو، اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔

لوک سبھا میں جمعہ شام 4 بجے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ میں ترمیم کے لیے لائے گئے بل پر ووٹنگ ہونی ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوچ سمجھ کر اور پوری حساسیت کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواتین کے ریزرویشن کے حق میں ووٹ دیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی دادی نے انہیں خوف کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خواتین سے بہت کچھ سیکھتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو یا کوئی اور کردار۔ انہوں نے کہا کہ "سچائی کڑوی ہوتی ہے،

ہری ونش نارائن سنگھ ایک بار پھر راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے، گزشتہ ہفتہ ہی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے انہیں راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا تھا۔ یہ سیٹ سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے ریٹائرہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جسے بھرنے کے لئے جے ڈی یو لیڈر ہری ونش کو منتخب کیا کیا گیا۔ 69 سالہ ہری ونش کی مدت اب 2032 تک رہے گی۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

وزیراعظم  مودی نے ملک کی "ناری شکتی" کو پرنام کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے اور اب انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس بل کی مخالفت کریں گے انہیں اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم  مودی نے گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں پنچایت سطح پر ابھرنے والی خواتین قیادت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین اب صرف نمائندہ نہیں بلکہ بااثر لیڈر بن چکی ہیں۔ پہلے خواتین سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں،