Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے،

وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے ہمیشہ قومی مفاد سب سے اوپر رہا ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعتی مفاد قومی مفاد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جیسے اہم معاملے پر بھی سیاست کی گئی۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی، جس میں 528 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں ہونے والے حادثے کے بارے میں جان کر مجھے بہت دکھ ہوا

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے،

24 جمہوری ممالک میں کیے گئے مارننگ کنسلٹ سروے میں وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سب سے مقبول لیڈر بن گئے۔ انہیں 70 فیصد منظوری کی درجہ بندی ملی، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز سب سے کم مقبول لیڈر ثابت ہوئے۔

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔